جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پاک بھارت تجارت بند : بھارتی تاجروں کو بھاری نقصان کا سامنا، اٹاری باڈر پر ٹرکوں کی لمبی قطاریں

datetime 24  فروری‬‮  2019 |

واہگہ(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت کی پاکستان دشمنی کی لپیٹ میں بھارتی تاجربھی آگئے، پاک بھارت تجارت بند ہونے کے باعث بھارتی تاجروں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے اور اٹاری باڈر پر روکے گئے ٹرکوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق بھارت کی پاکستان دشمنی نے

بھارتی تاجروں کو بھی لپیٹ میں لے لیا ہے ، پلواما حملے کے بعد پاکستان کی نفرت میں بھارت نے تجارت بند کردی، جس کے باعث اٹاری باڈر پر روکے گئے ٹرکوں کی لمبی قطاریں لگ گئی۔ ٹرک ڈارئیورز کا کہنا ہے شدید مشکلات ہیں، کاروباری نقصان الگ ہے، صورت حال انتہائی خراب ہے۔ دوسری جانب بھارت کے اٹاری باڈر پر واقع چھوٹے ہوٹلز بند ہیں، ہوٹل مالکان کا کہنا ہے کہ پہلے سو ڈیڑھ سو لوگ آتے تھے پر اب کوئی نہیں آرہا ہے۔ بھارت کی جانب سے تجارت بند ہونے سےٹماٹرکے کاشتکاروں کو شدید نقصان کا سامنا ہے، بھارت میں ٹماٹر کی قیمت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ، فی من ٹماٹر کی قیمت دو سو روپے کم ہوگئی اور چھ سو روپے من میں فروخت ہونے والا ٹماٹر اب چار سو روپے من میں فروخت ہورہا ہے۔ یاد رہے پلوامہ حملے کے بعد بھارتی تاجروں نے پاکستان سے تمام آرڈر منسوخ کر دیے تھے اور پاکستان سے تمام درآمدات بند کر دی تھیں، جس کے باعث پاک بھارت سرحد پر سیمنٹ کے ساڑھے تین سو بڑے ٹرک بھی رک گئے تھے۔ آرڈر منسوخی کی بعد بھارتی تاجروں نے ایڈوانس دیے گئے کروڑوں روپے بھی واپس مانگ لیے تھے۔ بعد ازاں بھارتی تجارتی دہشت گردی کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے پاکستان نے جوابی پالیسی تیاری کرلی ہے ، جس کے مطابق پاکستان فوری طور پر 90 بھارتی اشیا کو منفی لسٹ میں ڈال دے گا اور بھارتی اشیا پر 200 فیصد ریگیولیٹری ڈیوٹی لگائےگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…