جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ایران بغداد سے اپنے قرضوں کی وصولی کے لیے متحرک

datetime 9  فروری‬‮  2019 |

بغداد(این این آئی)ایران کے وزیر تیل بیڑن زنگنہ نے انکشاف کیا ہے کہ عراق نے تہران سے درآمد کی جانے والی گیس اور بجلی کی مد میں واجب الادا قرضوں کی واپسی سے انکار کر دیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق زنگنہ نے ایک پریس کانفرنس میں عراقی حکام سے مطالبہ کیا کہ

گیس اور بجلی سے متعلق قرضوں کو ادا کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عراق اپنے خلاف امریکی پابندیوں کے لاگو ہونے کے خدشے کو بہانہ بنا کر اس موضوع پر بات چیت سے فرار حاصل کر رہا ہے۔زنگنہ کے مطابق ایران اس وقت ماہانہ 20 کروڑ ڈالر مالیت کی گیس عراق کو برآمد کر رہا ہے اور اس مد میں قرضوں کا حجم دو ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔امریکا نے عراق کو مارچ 2019 تک کی مہلت دی تھی تا کہ اس دوران وہ اپنے بجلی کے اسٹیشنوں کو ایندھن فراہم کرنے کے لیے ایرانی گیس کا متبادل تلاش کر لے۔ایران کے مرکزی بینک کے ذریعے نے انکشاف کیا کہ درآمد شدہ توانائی کی مد میں واجب الادا قرضوں سے نمٹنے کے لیے عراق کے ساتھ ایک اہم سمجھوتے پر دستخط ہوئے ہیں۔ یہ پیش رفت ایران کے مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی کی بغداد میں اپنے ہم منصب علی العلاق سے ملاقات کے دوران سامنے آئی۔یاد رہے کہ ہمتی نے واضح کیا تھا کہ عراقی حکام جانبین کے بیچ مالی مسائل کی درستی کا سنجیدہ ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق بغداد اور تہران کے درمیان نقدی اور بینکاری تعلقات یورو اور عراقی دینار کی صورت میں ہوں گے۔اس سے قبل عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی ایران کے مرکزی بینک کے گورنر کے ساتھ ملاقات میں یہ باور کرا چکے ہیں کہ اْن کا ملک ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کے نظام کا حصّہ نہیں ہو سکتا۔سابق وزیراعظم حیدر العبادی کی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ ملکی مفاد کے تحفظ میں ایران کے خلاف پابندیوں کو لاگو کرے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…