جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان فرنیچر کونسل کا ملک کی معاشی ترقی کیلئے وزیراعظم عمران خان کی اقتصادی پالیسیوں پر بھر پور اعتماد کا اظہار

datetime 17  جنوری‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی)پاکستان فرنیچر کونسل (پی ایف سی) نے ملک کی معاشی ترقی کیلئے وزیراعظم عمران خان کی اقتصادی پالیسیوں پر بھر پور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ جمعرات کو پی ایف سی کے چیف ایگزیکٹو میاں کاشف اشفاق نے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ پی ایف سی وزیر اعظم کی شکر گزار ہے کہ وہ قومی معیشت کو مضبوط بنانے اور ملک میں سست رفتار

صنعتی عمل کو تیز کرنے کیلئے ان کے جائز مطالبات کو ہر ممکن حد تک تسلیم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس بات پر بھی شکر گزار ہیں کہ پی ٹی آئی کی منتخب حکومت اقتصادی پالیسیوں کو حتمی شکل دینے سے قبل تاجروں کو اعتماد میں لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت موجودہ بحرانی صورتحال میں صنعت کو ہر ممکنہ مالیاتی ریلیف فراہم کرنے کے لئے بہترین کوششیں کر رہی ہے۔ پی ایف سی نے ہمیشہ حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کو نہ صرف سراہا ہے بلکہ ان کے نفاذ اور انہیں کامیاب بنانے کیلے بھی عملی اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ اسد عمر اور وزیر اعظم کے مشیر عبدالرزاق داؤد نے فرنیچر کی صنعت کو درپیش تمام حقیقی مسائل پر ترجیحی بنیادوں پر غور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ میاں کاشف اشفاق نے کہا کہ حکومت فرنیچر پروڈیوسرز کے لئے خصوصی پیکج کا اعلان کرے کیونکہ یہ شعبہ عالمی مارکیٹ میں اپنی جگہ بنانے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے۔ لکڑی کے کارکنوں کی مہارت اور دستکاری میں برآمدات کے لئے بہت بڑا پوٹینشل موجود ہے اور وہ نہ صرف مقامی بلکہ بین الاقوامی مارکیٹوں کی ڈیمانڈ بھی پوری کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے مشیر عبدالرزاق داؤد انٹیریئرز پاکستان نمائش کے اپنے دورے کے دوران ہاتھ سے تیارکردہ پاکستانی فرنیچر کی مصنوعات کے معیار سے بہت متاثر ہوئیتھے۔ انہوں نے کہا کہ فرنیچر انڈسٹری کو کمرشل بنیادوں پر فروغ دینے کے لئے ایک جامع حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے جس سے نہ صرف مینوفیکچررز کو فائدہ ہو گا بلکہ برآمدات کو بڑھانے میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ فرنیچر اور ہینڈی کرافٹ انڈسٹری مجموعی طور پر 50 ہزار افراد کو ملازمت کے مواقع مہیا کر رہی ہے اور اگر مقامی صنعت کو فروغ دیا جائے تو روزگار کے

نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ پاکستان میں فرنیچر انڈسٹری کو کاٹیج یا سمال انڈسٹری سے اپ گریڈ کرکے جدید انڈسٹری میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے جس کیلئے جدید تربیت کی فراہمی، درآمدات اور سپلائیز کی اپ گریڈیشن، ووڈ ورک انسٹی ٹیوٹ کے قیام اور بین الاقوامی معیارکو یقینی بنانے کیلئے ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کے قیام کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرنیچر برآمدات کو فروغ دینے کیلئے بین الاقوامی

تجارتی میلوں میں شرکت کو مزید باقاعدہ بنانے کی بھی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے عوام میں اعلی معیار کی لوکل مصنوعات کی خریداری کا شعور پیدا کرنا ہو گا۔ پی ایف سی کے سربراہ نے کہا کہ درآمدات کے علاوہ زیادہ پیداواری لاگت، معیشت میں عدم استحکام، صارفین کی لا علمی اور مناسب قانون سازی کی کمی سمیت کئی دیگر عوامل مقامی صنعت کے فروغ کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…