پیر‬‮ ، 09 فروری‬‮ 2026 

برآمدات بڑھانے والی پالیسیاں ترتیب دی جائیں ،اکانومی کوامداد پر چلنے والی معیشت نہ بننے دیا جائے : سرتاج عزیز

datetime 10  جنوری‬‮  2019 |

لاہور ( این این آئی) سابق وزیر خارجہ اور معاشی امور کے ماہر سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ ملکی معاشی صورتحال میں بہتری کے لئے گروتھ ریٹ میں اضافہ کیا جائے اس مقصد کے لئے انویسمنٹ ٹو جی ڈی پی اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا تناسب بڑھایا جائے ۔ پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشنز فرنٹ (پیاف) ایگزیکٹو کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شرح نمو میں اضافہ

کے لئے بجٹ اور جاری کھاتوں کے خسارے کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔موجودہ شرح نمو جو اس وقت3.5 فیصد ہے اس میں کم از کم6 فیصدتک لایا جائے، آبادی میں تین فیصد اضافہ ہو رہا ہے جنھیں کھپانے کے لئے شرح نمو کو بڑھانا از حد ضروری ہے ورنہ غربت ،بیروزگاری امن و امان، فوڈ سیکورٹی اور برین ڈرین کے سنگین مسائل جنم لیں گے۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ شرح نمو بڑھانے سے تعلیم صحت توانائی اور انفرا سٹرکچر جیسے اہم امور پر توجہ دی جا سکے گی جس کے لئے انقلابی اقدامات کرنا ہوں گے۔سی پیک منصوبہ کی تکمیل سے پاکستان میں غیر ملکی سرمایا کاری میں اضافہ کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کی شرح نمو میں بھی مزید بہتری واقع ہو گی۔درآمدات کی بجائے برآمدات والی پالیسان ترتیب دی جائیں اور اکانومی کوامداد پر چلنے والی معیشت نہ بننے دیا جائے۔ پاکستان میں تجارت و صنعتی سرگرمیوں کے فروغ اور توانائی کے شعبے کی بہتری سے ہی قومی معیشت کی شرح نمو بڑھے گی ۔ اس موقع پر پیٹرن انچیف پیاف میاں انجم نثار اور چیئرمین پیاف میاں نعمان کبیر نے سابق وفاقی وزیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اشیاء اور خدمات کی پیداواری لاگت زیادہ ہونے کی وجہ سے انڈسٹریز اور ٹریڈرز کو نقصان پہنچ رہا ہے کاروباری برادری کی مشکلات میں کمی لائی جائے۔ درآمدات میں اضافے کی وجہ سے سرمایہ کاری اور صنعت میں اضافہ ٹھیک مگربرآمدات میں کمی کی وجہ سے تجارتی خسارہ بڑھتا جا رہا ہے جس کو توازن میں رکھنا لازمی ہے ۔ملکی معیشت کو ایک جامع تجارتی پالیسی کی اشد ضرورت ہے جو برآمدات کو بڑھائے اور غیر ضروری درآمدات کو گھٹائے تاکہ معیشت مظوط بنیادوں پر استوار ہو سکے۔ کاروباری طبقہ مہنگائی میں اضافے پٹرولیم مصنوعات اور بجلی و گیس کے نرخ میں اضافے اور دیگر مسائل کی

وجہ سے ہنوز پریشانی کا شکار ہے کاروباری برادری کوموجودہ حکومت سے بڑی توقعات وابستہ ہیں۔برآمدات میں اضافے کے لئے ریفنڈز بلا تاخیر جاری کیے جائیں اور صنعتی شعبے کے لئے بجلی و گیس کی قیمتوں میں فوری کمی کی جائے ی حکومت بنے سے کاروباری طبقہ کے اعتماد میں اضافہ ہو گا جو ملکی سا لمیت اور اور استحکام میں ایم کردار ادا کرے گا۔ اس موقع پر سابق صدور لاہور چیمبر و پیاف میاں شفقت علی،محمد علی میاں، سہیل لاشاری ودیگر نے بھی خطاب کیا ۔



کالم



بٹرفلائی افیکٹ


وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…