جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

برآمدات بڑھانے والی پالیسیاں ترتیب دی جائیں ،اکانومی کوامداد پر چلنے والی معیشت نہ بننے دیا جائے : سرتاج عزیز

datetime 10  جنوری‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور ( این این آئی) سابق وزیر خارجہ اور معاشی امور کے ماہر سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ ملکی معاشی صورتحال میں بہتری کے لئے گروتھ ریٹ میں اضافہ کیا جائے اس مقصد کے لئے انویسمنٹ ٹو جی ڈی پی اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا تناسب بڑھایا جائے ۔ پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشنز فرنٹ (پیاف) ایگزیکٹو کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شرح نمو میں اضافہ

کے لئے بجٹ اور جاری کھاتوں کے خسارے کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔موجودہ شرح نمو جو اس وقت3.5 فیصد ہے اس میں کم از کم6 فیصدتک لایا جائے، آبادی میں تین فیصد اضافہ ہو رہا ہے جنھیں کھپانے کے لئے شرح نمو کو بڑھانا از حد ضروری ہے ورنہ غربت ،بیروزگاری امن و امان، فوڈ سیکورٹی اور برین ڈرین کے سنگین مسائل جنم لیں گے۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ شرح نمو بڑھانے سے تعلیم صحت توانائی اور انفرا سٹرکچر جیسے اہم امور پر توجہ دی جا سکے گی جس کے لئے انقلابی اقدامات کرنا ہوں گے۔سی پیک منصوبہ کی تکمیل سے پاکستان میں غیر ملکی سرمایا کاری میں اضافہ کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کی شرح نمو میں بھی مزید بہتری واقع ہو گی۔درآمدات کی بجائے برآمدات والی پالیسان ترتیب دی جائیں اور اکانومی کوامداد پر چلنے والی معیشت نہ بننے دیا جائے۔ پاکستان میں تجارت و صنعتی سرگرمیوں کے فروغ اور توانائی کے شعبے کی بہتری سے ہی قومی معیشت کی شرح نمو بڑھے گی ۔ اس موقع پر پیٹرن انچیف پیاف میاں انجم نثار اور چیئرمین پیاف میاں نعمان کبیر نے سابق وفاقی وزیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اشیاء اور خدمات کی پیداواری لاگت زیادہ ہونے کی وجہ سے انڈسٹریز اور ٹریڈرز کو نقصان پہنچ رہا ہے کاروباری برادری کی مشکلات میں کمی لائی جائے۔ درآمدات میں اضافے کی وجہ سے سرمایہ کاری اور صنعت میں اضافہ ٹھیک مگربرآمدات میں کمی کی وجہ سے تجارتی خسارہ بڑھتا جا رہا ہے جس کو توازن میں رکھنا لازمی ہے ۔ملکی معیشت کو ایک جامع تجارتی پالیسی کی اشد ضرورت ہے جو برآمدات کو بڑھائے اور غیر ضروری درآمدات کو گھٹائے تاکہ معیشت مظوط بنیادوں پر استوار ہو سکے۔ کاروباری طبقہ مہنگائی میں اضافے پٹرولیم مصنوعات اور بجلی و گیس کے نرخ میں اضافے اور دیگر مسائل کی

وجہ سے ہنوز پریشانی کا شکار ہے کاروباری برادری کوموجودہ حکومت سے بڑی توقعات وابستہ ہیں۔برآمدات میں اضافے کے لئے ریفنڈز بلا تاخیر جاری کیے جائیں اور صنعتی شعبے کے لئے بجلی و گیس کی قیمتوں میں فوری کمی کی جائے ی حکومت بنے سے کاروباری طبقہ کے اعتماد میں اضافہ ہو گا جو ملکی سا لمیت اور اور استحکام میں ایم کردار ادا کرے گا۔ اس موقع پر سابق صدور لاہور چیمبر و پیاف میاں شفقت علی،محمد علی میاں، سہیل لاشاری ودیگر نے بھی خطاب کیا ۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…