ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

شوگر ملز حکومت کے گلے پڑ گئیں، ہر سال فاضل چینی ٹھکانے کیلئےحکومت کتنی رقم خرچ کرتی ہے،گنے کے کاشتکارکیلے اگا نے پر کیوں مجبور ہوئے ؟ جانئے شوگر ملز مافیا کی لوٹ مار کی ہوشربا داستان

datetime 30  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (آئی این پی)اسلام آباد چیمبر آف سمال ٹریڈرز کے سرپرست شاہد رشید بٹ نے کہا ہے کہ عرصہ دراز تک استحصال کا شکار ہونے والے بہت سے کاشتکار شوگر ملز مافیا کے چنگل سے نکل آئے ہیں جن سے انکا معیار زندگی بہتر ہوا ہے۔ملک کی با اثر شوگر ملز مافیا نے طویل عرصہ سے گنے کی خریداری اورادائیگیوں میں تاخیر اور دیگر منفی حربوں سے کسانوں کا

جینا حرام کر رکھا تھا ۔یہ کاروبار اتنا منافع بخش تھا کہ ملک بھر میںمسلسل شوگر ملیں لگتی رہیں جس سے پیداوار ضرورت سے بڑھ گئی جبکہ حکومت کو ہر سال فاضل چینی ٹھکانے لگانے کے لئے زرِکثیر صرف کرنا پڑتا ہے۔بہت سے شوگر ملز مالکان نے اپنے منافع میں کبھی بھی کاشتکار کو شریک نہیں کیا۔ملک میں نئی شوگر ملوں لگانے اور موجودہ شوگر ملوں میں توسیع پر مکمل پابندی عائد کرنے کی ضرورت ہے۔شاہد رشید بٹ نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ شوگر ملوں کے ہتھکنڈوں سے بچنے کے لئے سب سے پہلے خیبر پختونخواہ کے کاشتکاروں نے گنے سے گڑ بنانا شروع کر دیا جس کی پیداوار روکنے کے لئے اسکی برامد پر پابندی لگانے کی سازش کی گئی جو ناکام ہو گی۔ اب سندھ کے کاشتکاروں نے گنے کے بجائے کیلا اگانا شروع کر دیا ہے جس کی وجہ سے ملک بھر میں کیلے کی سپلائی بڑھ گئی ہے، قیمت غریب عوام کی پہنچ میں آ گئی ہے جبکہ بھارت سے اسکی درامد رک گئی ہے جس سے زرمبادلہ بچ رہا ہے۔ کیلئے کی فصل نقد بک رہی ہے اور کاشتکاروں کوپہلے کی طرح ادائیگیوں کے لئے دھکے نہیں کھانے پڑ رہے ہیں۔ملکی پیداوار کا نوے فیصد کیلا سندھ میں پیدا ہوتا ہے۔گزشتہ سال اٹھائیس ہزار ہیکٹر ایکڑ پر کیلا کاشت کیا گیا جبکہ سندھ کے علاوہ ملک میں بھر میں تقریباً دو ہزار ہیکٹر ایکڑ رقبہ پر کیلا کاشت ہوتا ہے۔ملک بھر میں کیلے کے زیر کاشت رقبہ میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے اور پیداوار سوا لاکھ ٹن تک پہنچنے کا امکان ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…