جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

شوگر ملز حکومت کے گلے پڑ گئیں، ہر سال فاضل چینی ٹھکانے کیلئےحکومت کتنی رقم خرچ کرتی ہے،گنے کے کاشتکارکیلے اگا نے پر کیوں مجبور ہوئے ؟ جانئے شوگر ملز مافیا کی لوٹ مار کی ہوشربا داستان

datetime 30  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (آئی این پی)اسلام آباد چیمبر آف سمال ٹریڈرز کے سرپرست شاہد رشید بٹ نے کہا ہے کہ عرصہ دراز تک استحصال کا شکار ہونے والے بہت سے کاشتکار شوگر ملز مافیا کے چنگل سے نکل آئے ہیں جن سے انکا معیار زندگی بہتر ہوا ہے۔ملک کی با اثر شوگر ملز مافیا نے طویل عرصہ سے گنے کی خریداری اورادائیگیوں میں تاخیر اور دیگر منفی حربوں سے کسانوں کا

جینا حرام کر رکھا تھا ۔یہ کاروبار اتنا منافع بخش تھا کہ ملک بھر میںمسلسل شوگر ملیں لگتی رہیں جس سے پیداوار ضرورت سے بڑھ گئی جبکہ حکومت کو ہر سال فاضل چینی ٹھکانے لگانے کے لئے زرِکثیر صرف کرنا پڑتا ہے۔بہت سے شوگر ملز مالکان نے اپنے منافع میں کبھی بھی کاشتکار کو شریک نہیں کیا۔ملک میں نئی شوگر ملوں لگانے اور موجودہ شوگر ملوں میں توسیع پر مکمل پابندی عائد کرنے کی ضرورت ہے۔شاہد رشید بٹ نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ شوگر ملوں کے ہتھکنڈوں سے بچنے کے لئے سب سے پہلے خیبر پختونخواہ کے کاشتکاروں نے گنے سے گڑ بنانا شروع کر دیا جس کی پیداوار روکنے کے لئے اسکی برامد پر پابندی لگانے کی سازش کی گئی جو ناکام ہو گی۔ اب سندھ کے کاشتکاروں نے گنے کے بجائے کیلا اگانا شروع کر دیا ہے جس کی وجہ سے ملک بھر میں کیلے کی سپلائی بڑھ گئی ہے، قیمت غریب عوام کی پہنچ میں آ گئی ہے جبکہ بھارت سے اسکی درامد رک گئی ہے جس سے زرمبادلہ بچ رہا ہے۔ کیلئے کی فصل نقد بک رہی ہے اور کاشتکاروں کوپہلے کی طرح ادائیگیوں کے لئے دھکے نہیں کھانے پڑ رہے ہیں۔ملکی پیداوار کا نوے فیصد کیلا سندھ میں پیدا ہوتا ہے۔گزشتہ سال اٹھائیس ہزار ہیکٹر ایکڑ پر کیلا کاشت کیا گیا جبکہ سندھ کے علاوہ ملک میں بھر میں تقریباً دو ہزار ہیکٹر ایکڑ رقبہ پر کیلا کاشت ہوتا ہے۔ملک بھر میں کیلے کے زیر کاشت رقبہ میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے اور پیداوار سوا لاکھ ٹن تک پہنچنے کا امکان ہے۔

موضوعات:



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…