جمعرات‬‮ ، 25 جون‬‮ 2026 

بڑی تعداد میں غیر ملکی فرنیچر سازوں اور سرمایہ کاروں کا پی ایف سی کی انٹیریئرز پاکستان میگا نمائش میں گہری دلچسپی کا اظہار

datetime 8  اکتوبر‬‮  2018 |

لاہور (این این آئی)بڑی تعداد میں غیر ملکی فرنیچر سازوں اور سرمایہ کاروں نے پاکستان فرنیچر کونسل کے زیر اہتمام دسویں 3 روزہ انٹیریئرز پاکستان میگا نمائش میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے جو ایکسپو سینٹر لاہور میں 14 دسمبر سے شروع ہوگی۔ یہ بات پی ایف سی کے چیف ایگزیکٹو میاں کاشف اشفاق نے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس میں بتائی۔ انہوں نے کہا کہ نمائش کے حوالے سے متعلقہ

افراد، اداروں اور بین الاقوامی مارکیٹ میں بہت زیادہ دلچسپی پائی جاتی ہے جو اس صنعت کیلئے ترقی اور کاروبار کے وسیع مواقع مہیا کرے گی۔ میاں کاشف اشفاق نے کہا کہ لوگوں کو ہاتھ سے تیار شدہ فرنیچر کی طرف مائل کرنا پی ایف سی کا مشن ہے۔ پی ایف سی اس مرتبہ پھر پاکستانی فرنیچر سازوں کو چین، اٹلی، سنگاپور، امریکہ، آسٹریلیا، جاپان، فلپائن، برطانیہ، بلغاریہ، ڈنمارک، نیپال، سری لنکا، انڈونیشیا اور ویت نام سمیت دیگر ممالک سے نمائش میں شرکت کرنے والے وفود کے ساتھ نیٹ ورکنگ اور مارکیٹنگ کے مواقع مہیا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ نمائش نوجوان ڈیزائنرز اور آرکیٹکٹس کو مارکیٹ رجحانات کے مشاہدہ اور پروفیشنلز کے ساتھ روابط بڑھانے کا موقع بھی فراہم کرے گی۔ پی ایف سی کے سربراہ نے کہا کہ نمائش میں ڈائننگ، بیڈ روم، لیونگ روم، آفس، چلڈرن، اور آؤٹ ڈور فرنیچر، فکسچر اورمتعلقہ سامان اور ہارڈ ویئر میں جدید سٹائل کی وسیع اور مکمل رینج پیش کی جائے گی۔ میاں کاشف اشفاق نے کہا کہ پی سی ایف عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں پاکستانی فرنیچر مصنوعات کی موجودگی کو یقینی بنانے اور اسے فروغ دینے اور پاکستانی فرنیچر ڈیزائنرز اور مینوفیکچررز کے لئے فوکل پوائنٹ کے طور پر کام کرنے کے لئے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ووڈ فرنیچر کی صنعت ترقی یافتہ اس صنعت کے 95 فیصد کا احاطہ کرتی ہے، ملک میں لکڑی کے فرنیچر کے 700

سے زائد یونٹس کام کر رہے ہیں جن میں صرف چنیوٹ کا حصہ 80 فیصد ہے جبکہ گجرات کے علاوہ پشاور، لاہور اور کراچی عالمی معیار کے فرنیچر کی تیاری اور فروخت کے بڑے مراکز ہیں۔ اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری پی ایف سی عاقل سردار نے کہا کہ پاکستانی فرنیچر بین الاقوامی کاروباری برادری کو اپنی جدت اور معیار کے بل پر متوجہ کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیئے کہ وہ بڑے بزنس ہاؤسز کو فرنیچر مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنے

کے لئے راغب کرے اور یورپی یونین کے رکن ممالک میں فرنیچر نمائشوں میں شرکت کو یقینی بنائے اور اس حوالے سے شعور اجاگر کرے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں یورپ پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات کی سب سے بڑی منڈی بن کر ابھرے گا اس لئے حکومت کو ابھی سے اس پر توجہ مرکوز کرنی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ہاتھ سے تیار کردہ فرنیچر انتہائی معیاری اور کم قیمت ہونے کی وجہ سے یورپی یونین میں اپنی جگہ بنا سکتا ہے اس لئے اس کی بہتر قیمت پر مارکیٹنگ کی ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اواتار مائونٹین


اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…