منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

گیس کی قیمتیں نہ بڑھائیں تو گردشی قرضوں میں اضافہ ہوجائے گا

datetime 28  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)گیس فراہم کرنے والی 2 کمپنیوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گیس کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ صارفین پر ڈالا جائے تا کہ ایک سو 23 ارب ڈالر کے گردشی قرضوں کو کم کیا جاسکے جس کے باعث گیس کے پیدواری اور ترسیلی شعبے کو رقم کی کمی کا سامنا ہے۔  رپورٹ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے سینیٹر شبلی فراز کی سربراہی میں گردشی قرضوں

کے لیے بنائی گئی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں سوئی سدرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) اور سوئی سدرن گیس کمپنی کے چیف ایگزیکٹو نے بتایا کہ گزشتہ حکومت کے 5 سالہ دورِ اقتدار میں صارفین کو فروخت کی جانے والی گیس کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا گیا جس کے باعث قرضوں میں اضافہ ہوا۔  گھریلو صارفین کیلئے گیس 200 فیصد مہنگی کرنے کی سفارش ایس این جی پی ایل کی مینیجنگ ڈائریکٹر امجد لطیف کا کہنا تھا کہ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (ایل این جی) کی امپورٹ سے مارچ 2015 سے گیس کی طلب و رسد کے فرق میں کمی واقع ہوئی ہے۔ دوسری جانب قیمت خرید اور قیمت فروخت میں فرق کی وجہ سے کمپنی کی مالی مشکلات میں اضافہ ہوا جبکہ عدالت میں جاری 2 پرانے مقدمات کے باعث 60 ارب روپے کے اضافی بوجھ کے سبب ایک سال میں کمپنی کو رقم کی کمی کا سامنا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ کمپنی تقریباً 40 پیداواری یونٹوں سے 629 روپے فی ملین برٹش تھرمل یونٹ (ایم ایم بی ٹی یو) کی قیمت پر گیس خرید رہی تھی جبکہ 399 روپے فی یونٹ کے حساب سے فروخت کررہی تھی جس سے 2 سو 30 روپے فی یونٹ کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا تھا۔  گیس اصلاحات گھریلو صارفین پر اثر انداز ہوں گی ان کا مزید کہنا تھا کہ کابینہ کی اقتصادی تعاون کی کمیٹی نے اس مسئلے کا حل تجویز کر کے معاملہ نفاذ کے لیے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو ارسال کردیا گیا تھا جس کے بعد اوگرا نے قیمتوں میں 30 فیصد اضافے کی سمری حکومت کو ارسال کی تھی لیکن حکومت تبدیل ہونے کے باعث نوٹفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قوانین کے مطابق اگر وفاقی حکومت 40 دن میں قیمتوں کا تعین کرنے میں ناکام ہوجاتی ہے تو اوگرا اس کا اعلان کرنے کی پابند ہے جو انہوں نے تاحال نہیں کیا۔ اس ضمن میں اوگرا کے فنانس عہدیدار نے کمیٹی کو بتایا کہ نگراں حکومت نے انہیں ٹیرف میں اضافہ کرنے سے روک دیا تھا کیوں کہ یہ ایک بڑا پالیسی اقدام ہے اور اس کا اعلان نئی حکومت کی جانب سے کیا جانا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…