پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

ایف بی آر پاکستانیوں کے بیرونِ ملک اکاؤنٹس تک رسائی کیلئے تیار

datetime 25  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)عالمی ادارہ برائے اقتصادی تعاون و ترقی (او ای سی ڈی) کے کثیرالجہتی کنونشن کے دستخط کنندہ ہونے کے باعث پاکستان کی آئندہ ماہ سے اپنے شہریوں کے بیرونِ ملک مالی اکاؤنٹس کی تفصیلات تک رسائی ہوجائے گی۔  رپورٹ کے مطابق ڈان کو موصول ہونے والے ریکارڈ کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو بیرنِ ملک موجود پاکستانیوں کے بینک اکاؤنٹس

تک یکم ستمبر سے رسائی حاصل ہونا شروع ہوجائے گی۔ واضح رہے کہ یہ رسائی ان ممالک تک ہوسکے گی جو اس معاہدے کے دستخط کنندہ ہیں۔ زرمبادلہ کو بہتر بنانے اور اسے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے مطابق لانے کے لیے پروٹیکشن ریفارم ایکٹ 1992 میں ضروری ترامیم کی جاچکی ہیں۔ مذکورہ ترامیم کے مطابق جہاں بھی ترسیلات کا مجموعہ ایک کروڑ روپے سے تجاوز کر جائے گا وہاں ایف بی آر انکوائری کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بیرونِ ملک اثاثوں اور آمدن کی تحقیقات کے لیے 5 سال کی حد کو بھی ختم کردیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حال ہی میں حکومت کی جانب سے دی جانے والی ایمنسٹی اسکیم کا ردِعمل مثبت آیا ہے، جس کی نہ صرف پاکستان کی تاریخ میں کوئی مثال ملتی ہے بلکہ یہ دنیا کی ایک کامیاب ترین اسکیموں میں سے ایک ہے۔ حکومتی ایمنسٹی اسکیم میں 82 ہزار 4 سو 43 افراد نے اپنے اثاثے ظاہر کیے جس میں سے بیرونِ ملک اثاثون کی مالیت 10 کھرب 9 ارب روپے جبکہ مقامی اثاثوں کی مالیت 14 کھرب 74 ارب روپے ہے، تاہم کل مالیت 24 کھرب 80 ارب روپے ہے۔ اسکیم کے دوران ایک کھرب 23 ارب روپے کے ٹیکس ادا ہوئے جن میں سے 46 ارب روپے بیرونِ ملک اثاثوں جبکہ 77 ارب روپے مقامی اثاثوں کے ٹیکس کی مد میں وصول کیے گئے۔ ڈالر کی شکل میں موصول ہونے والے ٹیکس میں سے 3 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کو روپے میں جبکہ 2 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کو بانڈز میں تبدیل کردیا گیا اور 8 ڈالر کے ٹیکس پر آگے کارروائی کی جارہی ہے۔ واضح رہے کہ بیرونِ ملک اثاثوں کے حوالے سے دی گئی ایمنسٹی اسکیم منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد پر لاگو تھی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…