منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

زیادہ نقصانات والے بجلی کے فیڈرز نجی کمپنی کے حوالے کرنے کا منصوبہ

datetime 27  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سینیٹ اور پاور ڈویژن کے خصوصی پینل نے متفقہ طور پر ملک بھر کے ہائی لائن لاسز فیڈرز کو آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ رپورٹ کے مطابق گردشی قرضے اور لائن لاسز کو محدود کرنے کے لیے ہائی لاسز فیڈرز کی میٹر ریڈنگ، بلنگ اور بل کی وصولی کا عمل نجی کمپنی کو برابری مگر سالانہ بنیاد پر دیا جائے گا۔ بجلی کے ناقص ترسیلی نظام سے قومی خزانے کو 213 ارب کا نقصان سینیٹ کی تکنیکی کمیٹی کی سربراہی سینیٹر نعمان وزیر نے کی۔

 

مذکورہ فیصلہ پاور ڈویژن سے مشاورت کے بعد سامنے آیا۔ بجلی کی چوری اور لائن لاسز کو محدود کرنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مراعات دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ اس حوالے سے بتایا گیا کہ ہر ڈسٹری بیوشن کمپنی (ڈسکو) میں 200 پولیس اہلکار اور 2 مجسٹریٹ تعینات کیے جائیں گے اور تمام افراد کی تنخواہیں ڈسکو ادا کرنے کی پابند ہوگی۔ علاوہ ازیں بتایا گیا کہ چینی کمپنی کی جانب سے پیش کش کردی گئی ہے تاہم کمیٹی نے تجویز پیش کی کہ تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں اور اشتہارات دے کر دیگر کپمنیوں کو بھی مدعو کیا جائےگا۔ ’صوبائی حکومتیں بجلی چوری کی روک تھام میں سنجیدہ نہیں‘ کمیٹی کے مطابق نجی کمپنی کے پاس ڈسکو کے ملازمین کو برطرف کرنے کا اختیار نہیں ہوگا بلکہ ملازمین اضافی مراعات کے مستحق ہوں گے۔ آزمائشی مرحلے میں پشاور الیکڑک سپلائی کمپنی (پیسکو) کو نجی کمپنی کے حوالے کیا جائے گا جہاں سب سے زیادہ لائن لاسز ریکارڈ کیے گئے۔ چوری کی نشاندہی پر صارف سے وصول کیے جانے والے جرمانے میں سے 40 فیصد کمپنی کے ملازمین ، 20 فیصد چوری سے متعلق آگاہی دینے والے ، 10 فیصد وکیل اور 10 فیصد پولیس اسٹیشن کو فراہم کیے جائیں گے۔ کمیٹی میں تجویز پیش کی گئی کہ لو ٹینشن (ایل ٹی) سرکٹ سے نیو کنکشن کی فراہم کا عمل ختم کرکے اسے5 کے وی یا اس سے زائد ٹرانسفارمر سے جوڑا جائے گا جبکہ ٹرانسفارمر کے اخراجات صارف، ایم پی اے یا ایم این اے کے فنڈ یا پھر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے ادا ہوں گے۔  بجلی کی لوڈ شیڈنگ پر چیف جسٹس برہم، کے الیکٹرک سے لوڈشیڈنگ کا شیڈول طلب اس حوالے سے مزید کہا گیا کہ پاور ڈویژن بجلی کی چوری اور شریعت کی رو سے روزمرہ زندگی میں اس پر اثرات سے متعلق فتویٰ بھی حاصل کرے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…