ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

بٹ کوائن کے استعمال سے انٹرنیٹ کو خطرہ

datetime 20  جون‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

زیورخ (مانیٹرنگ ڈیسک)  بین الاقوامی سیٹلمنٹ بینک (بی آئی ایس) نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ ڈیجیٹل کرنسیز بشمول بٹ کوائن، کی نمو کا سلسلہ یونہی جاری رہا تو انٹرنیٹ پر اس کا حد سے زیادہ غلبہ ہو جائے گا۔ فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مرکزی بینکوں کا مرکزی مالیاتی ادارے بی آئی ایس نے اپنی ویب سائٹ پر 24 صفحات پر مشتمل رپورٹ شائع کی جس میں خبردار کیا گیا۔

کرپٹو کرنسی اس طرح قابلِ اعتبار نہیں جس طرح مروجہ کرنسی ہے۔ خیال رہے کہ مرکزی بینک کی جانب سے کرنسی کے اجرا کے برعکس ورچوئل کرنسی بینکس میں موجود کمپیوٹرز کے پیچیدہ لاگرتھم کے تحت بنائی جاتی ہے اور آزادانہ طریقے سے آن لائن تجارت میں استعمال بھی کی جاتی ہے۔کیا بِٹ کوائن اور کرپٹو کرنسیاں پیسے کا مستقبل ہیں؟ اس کے علاوہ روایتی کرنسی اور ڈیجیٹل کرنسی میں ایک بڑا فرق یہ بھی ہے کہ اس کی تعداد 2 کروڑ 10 لاکھ سے تجاوز نہیں کرسکتی، اور فی الحال ایک کروڑ 70 لاکھ بٹ کوائن مارکیٹ میں گردش کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ دسمبر 2017 میں چند روپے مالیت کے بٹ کوائن کی قیمت میں بے تحاشہ اضافہ ہوا اور بٹ کوائن کی قیمت 19 ہزار 5 سو ڈالر تک پہنچ گئی، اس اضافے نے سرمایہ کاروں کو اربوں پتی بنادیا۔ اس حوالے سے بی آئی ایس کی رپورٹ میں کہا گیا کہ اگر فرض کرلیا جائے کہ کسی ملک کی مکمل آبادی ڈیجیٹل کرنسی جیسا کہ بٹ کوائن کا استعمال کرنے لگ جائے، تو چند دنوں میں ہی روایتی اسمارٹ فون سے استعمال ہونے والے کھاتے گنجائش سے کہیں زیادہ بھر جائیں گے، جبکہ ایک عام ذاتی کمپیوٹر کے کھاتے کی گنجائش ختم ہونے میں ایک ہفتہ اور کسی انٹرنیٹ سرور کی گنجائش ختم ہونے میں مہینے لگیں گے۔بِٹ کوائن کیا ہے، اور کیا آپ کو یہ خریدنا چاہیے؟ رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ معاملہ گنجائش کی صلاحیت سے بڑھ کر پروسیسنگ کی صلاحیت کا ہے۔

اور صرف سپر کمپیوٹر کے ذریعے ہی آنے والی ٹرانزیکشن کی توثیق کی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ اس سے منسلک مواصلاتی رابطوں کے حجم کے باعث انٹرنیٹ رک سکتا ہے، بی آئی اسی کا کہنا ہے کہ اس کرنسی پر مکمل اعتماد کرنا مشکل ہے جبکہ اس سے قبل بی آئی ایس نے کرنسی میں دھوکہ دہی کے خطرے سے بھی خبردار کیا تھا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ مروجہ ادائیگی کے نظام میں جب کسی فرد کی جانب سے ادائیگی کی جاتی ہے

تو قومی ادائیگی کے نظام سے ہوتا ہوا یہ مرکزی بینک سے جا ملتا ہے، جسے منسوخ کیا جانا ممکن نہیں، جبکہ اس کے برعکس بغیر اجازت رائج کرپٹو کرنسی انفرادی ادائیگی کی ضمانت نہیں دیتی۔ بٹ کوائن کی قیمت میں 10 ہزار ڈالر کی کمی اس کے ساتھ بی آئی ایس نے اس قسم کی کرنسی مثلاً بٹ کوائن کی غیر مستحکم مالیت کی بھی نشاندہی کی، جس کی وجہ یہ ہے کہ اس قسم کی کرنسی کے اجرا اور اس کو مستحکم رکھنے کے لیے کوئی مرکزی ادارہ موجود نہیں۔

بی آئی ایس کی رپورٹ میں کرپٹو کرنسیز کے استعمال پر خاص طور پر منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کو سرمایہ فراہم کرنے کے حوالے سے طویل مدتی ریگولیٹری کے قیام پر زور دیا گیا۔ اس رپورٹ میں ’سلک روڈ‘ نامی بلیک مارکیٹ میں منشیات کی خرید و فرخت کے لیے خریداروں کی معلومات خفیہ رکھتے ہوئے ڈیجیٹل کرنسی کے استعمال کی بھی نشاندہی کی، واضح رہے کہ سلک روڈ نامی مارکیٹ ’ڈارک ویب‘ کے تحت کام کررہی تھی اور امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کی جانب سے اسے 2013 میں بند کردیا گیا تھا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…