منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

مقامی منڈی میں چینی مصنوعات کی بھرمار پر صنعت کار پریشان

datetime 11  جون‬‮  2018 |

کراچی مانیٹرنگ ڈیسک) مقامی صنعت کاروں نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) مکمل ہونے سے قبل ہی مارکیٹ میں چین کی تیارکردہ مصنوعات کی بھرمار پر تحفظات کا اظہار کردیا۔تاجربرادری کا کہنا ہے کہ ‘چینی مصنوعات کے لیے واقعی عید کا سماں ہے جب کہ ہر سال مقامی صنعت بری طرح متاثر ہوتی ہے، چینی مصنوعات معیار اور میعاد دونوں اعتبار سے ناقص ہوتی ہیں۔

لیکن اس حقیقت سے واقف ہونے کے باوجود پاکستانی عوام کے لیے محض کم قیمت ہی توجہ کا باعث ہے۔ معیشت پر بھاری ‘چائنہ کا مال’چیئرمین کونسل آف آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (سی اے پی ٹی اے) زبیر موتی والا نے بتایا کہ پاکستان کی مارکیٹ میں پانچ سال قبل چین کی تیارکردہ مصنوعات کی شرح 10 فیصد تھی جبکہ اب 30 فیصد تک جا پہنچی ہے۔انہوں نے خدشے کا اظہار کیا کہ ‘سی پیک منصوبوں کی تکیمل کے ساتھ ہی مقامی منڈی میں چینی مصنوعات کا حجم 60 فیصد تک جا پہنچے گا جس کے بعد ملک کے شہروں میں قائم صنعتیں بحرانی کیفیت سے دوچار ہوجائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ چینی شرٹ کا کپڑا 300 روپے اور مکمل سوٹ 700 روپے میں پڑ رہا ہے جبکہ پاکستان میں تیار ہونے والا سوٹ 12 سو روپے میں فروخت ہو رہاہے لیکن اس کا معیار چینی مصنوعات کے مقابلے میں بہت بہتر ہوتا ہے۔ زبیر موتی والا نے چینی اور پاکستانی مصنوعات میں قیمتوں کے فرق کے حوالے سے کہا کہ چین میں ‘کام کرنے کا ماحول’ مختلف ہے اور وہاں کی منڈی بہت وسیع ہے۔  ‘چینی کمپنی کو ٹیکس اور ڈیوٹی پر استثنیٰ مقامی صنعت کے لیے خطرہ ہے’ علاوہ ازیں شلور قمیض کا سوٹ بھی چین سے تیار ہو کر آرہا ہے اور مارکیٹ میں اس کا حجم 10 فیصد تک جا پہنچا ہے جو کہ مقامی صنعت کاروں کے لیے سخت پریشانی کا باعث بن رہا ہے۔ چیئرمین ٹریڈرز ایسوسی ایشن آف میروٹ روڈ محمد احمد شمسی نے کہا کہ ‘چین سے ہر سال 60 کروڑ روپے مالیت کے کھلونے پاکستان میں آتے ہیں جس کے نتیجے میں مقامی صنعت مکمل طور پر دم توڑ چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چینی کنفیشنری آٹئم بشمول چاکلیٹ اور ٹافیاں بھی پاکستانی مارکیٹ کی زینت بن چکی ہیں تاہم حکومت کو چاہیے کہ چین سے درآمد ہونے والی کھانے پینے کی اشیاء کے حلال و حرام ہونے کا جائزہ لے۔

بوہری بازار اور موچی گلی ایسوسی ایشن کے صدر منصور جیک نے کہا کہ ماضی میں چینی درآمد صرف مشینی کھلونوں تک محدود تھی جبکہ مقامی صنعت پلاسٹک کے کھلونے بنارہی تھی لیکن اب چین سے ہر چیز درآمد کی جارہی ہے اور اس کی پیکنگ کا عمل بھی چین میں ہورہا ہے۔ نرسری فرنیچر مارکیٹ ایسوسی ایشن کے صدر حنیف خان نے کہا کہ مقامی منڈی میں چینی فرنیچر (بیڈ روم سیٹ، سینٹر ٹیبل وغیرہ) کا

حجم 20 فیصد تک پہنچ چکا ہے اور لوکل مارکیٹ اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تجارتی ماحول چین کے لیے انتہائی سازگار ہے ، جولائی-اپریل 18-2017 میں چین کا درآمدی حجم 9 ارب 32 کروڑ ڈالر تھی جبکہ پاکستان اسی عرصے میں صرف 1 ارب 44 کروڑ ڈالر کی برآمد کرسکا۔پاکستان بیورو کے مطابق 17-2016 میں پاکستانی برآمد 1 ارب 36 کروڑ ڈالر جبکہ چین سے درآمدی حجم7 ارب 85 کروڑ ڈالر تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…