منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ایمنسٹی اسکیم میں بڑے پیمانے پرخامیوں کا انکشاف

datetime 12  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(سی پی پی)وفاقی حکومت کی جانب سے پاکستانیوں کو اندرون ملک و بیرون ملک غیر قانونی اثاثہ جات اورکالا دھن سفید کرانے کا موقع دینے کیلیے اعلان کردہ ایمنسٹی اسکیم میں بڑے پیمانے پرخامیوں کا انکشاف ہواہے جس کے باعث کالادھن و غیر قانونی اثاثہ جات رکھنے والے پاکستانیوں کو اسکیم سے فائدہ اٹھانے میں دشواریوں کا سامنا ہے اور اسکیم کی ناکامی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔میڈیا کو دستیاب دستاویزکے مطابق

ٹیکس بارز نے ایمنسٹی اسکیم اور اس کیلئے اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں پائے جانے والے ابہام اور خامیاں دور رنے کیلیے ایف بی آر سے رجوع کرنا شروع کردیا ہے اور ریونیو بورڈکو تحریری شکایات مل رہی ہیں۔راولپنڈی اسلام آباد ٹیکس بار ایسوسی ایشن نے بھی چیئرمین ایف بی آرکو آٹھ صفحات پر مشتمل خط لکھا ہے کہ ایمنسٹی اسکیم کوکامیاب بنانے کیلیے جاری کردہ آرڈیننسز اور اسٹیٹ بینک کے نوٹیفکیشن میں خامیاں دورکی جائیں۔ اس حوالے سے ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے صدرسید توقیر بخاری اورسینئر نائب صدر فراز فضل نے کہا ہے کہ آرڈیننس میں شامل سیکشن 114 اس ایمنسٹی اسکیم کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ ہے اور لوگ غیر قانونی اثاثہ جات اور دولت ظاہرکرنے سے گریزکر رہے ہیں۔مذکورہ سیکشن کے تحت ٹیکس آفیسرکو ظاہرکردہ اثاثہ جات و دولت کے بارے میں پوچھنے کا اختیار دیا گیا ہے ۔اس میں کہا گیا ہے کہ اسکیم سے فائدہ اٹھانے کیلیے مارکیٹ ویلیو یا ڈی سی ریٹ میں سے جس کی ویلیو زیادہ ہوگی اسے تصورکیا جائیگا اور اگر ٹیکس دہندہ کی جانب سے مس ڈکلیئریشن یا مس ریپریزنٹیشن سامنے آئی تو ایمنسٹی کا اطلاق نہیں ہوگا، لوگ خوف زدہ ہیں کہ اگر آج وہ اثاثے و دولت ظاہر کرتے ہیں تو ٹیکس آفیسرزکسی بھی وقت ان سے چیک

بکس کی کاپیاں اور ریکارڈ مانگ سکتے ہیں۔ایف بی آر سے کہا گیا ہے کہ سیکشن 114 کے حوالے سے کنفیوژن دور کی جائے اور اگر ٹیکس آفیسرکو اختیار دینا ضروری ہے تو اس کیلیے کوئی معیاد مقررکی جائے۔خط میں آرڈیننس کے سیکشن 5میں بھی کنفیوژن کی نشاندہی کی گئی ہے ۔اس سیکشن میں کہا گیا ہے کہ آرڈیننس کی تاریخ سے پہلے تک کی آمدنی اور اثاثہ جات کو پانچ فیصدکی رعایتی شرح سے ٹیکس ادائیگی پر قانونی حیثیت دلوائی جاسکے گی،

اس سکیشن کے غلط استعمال کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔آرڈیننس کے سیکشن آٹھ میں بھی ٹائپنگ کی غلطی پائی گئی ہے اور اس سیکشن میں مقامی اثاثہ جات و دولت کو ڈکلیئرکرنے کیلیے بھی ادائیگی ڈالر میں کرنا ہوگی۔خط میں کہا گیا ہے کہ مقامی ایمنسٹی کیلیے ٹیکس و واجبات کی ادائیگی کو امریکی ڈالرکے بجائے ملکی کرنسی کے الفاظ درج کیے جائیں۔خط میں کہا گیا ہے ایمنسٹی اسکیم آرڈیننس میں پبلک آفس ہولڈرکے زمرے میں آنے والوں کی طویل فہرست شامل کی گئی ہے جس سے الجھا پیدا ہوا ہے۔آرڈیننسز میں کورٹ آف لا کے الفاظ پر بھی کنفیوژن ہے کیونکہ قانونی طور پرسپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کورٹ آف لا ہیں مگرایپلٹ ٹربیونل، انکم ٹیکس اور ایف بی آرکے کمشنر اپیلز بھی خود کو کورٹ آف لا کہتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…