منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان مین کاسٹ آف ڈوئنگ بزنس خطے کے دیگر ممالک سے زیادہ ہیں،تمام صنعتوں کیلئے پاور ٹیرف کو کم کیا جائے، پیاف

datetime 13  فروری‬‮  2018 |

لاہور ( این این آئی) پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشنز فرنٹ (پیاف) نے کہا ہے کہ اشیاء و خدمات کی پیداواری لاگت میں کمی کیلئے بجلی کی قیمتوںمیں کمی کی جائے۔قائمقام چیئرمین پیاف تنویر احمد صوفی اور وائس چیئرمین پیاف خواجہ شاہزیب اکرم نے ان خبروں پر کہ حکومتی سطح پر ٹیکسٹائل سیکٹر میں بجلی کی قیمتوں میں کمی پر غور و خوض ہورہا ہے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف ٹیکسٹائل سیکٹر ہی نہیں بلکہ تمام انڈسٹریز پر یکساں طور پر بجلی کے نرخوں میں کمی کی جائے تاکہ اشیاء و خدمات کی پیداواری لاگت کم ہوں اور بیرون ملک برآمدات میں اضافہ ہوسکے ۔

بجلی کے انڈسٹریل ٹیرف میں کمی کرنے سے مقامی طور پر تیار ہونے والی مصنوعات عالمی مارکیٹ میں دیگر ممالک کی مصنوعات سے مسابقت کرسکیں گی۔ مسابقتی ممالک سری لنکا بنگلہ دیش انڈیا ویتنام و دیگر ممالک میں صنعتوں کی پیداوار لاگت پاکستان کے مقابلے میں کہیں کم ہے اور اس کے باعث پاکستان کی تیار کردہ مہنگی مصنوعات عالمی مارکیٹ میں دوسرے ممالک کی مصنوعات سے مقابلہ نہیں کرپارہی ہیںجس کے ملکی برآمدات پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بزنس کمیونٹی کافی عرصے سے مطالبہ کر رہی ہے کہ پاکستان مین کاسٹ آف ڈوئنگ بزنس خطے کے دیگر ممالک سے زیادہ ہیں۔ لہذا تمام صنعتوں کے لئے پاور ٹیرف کو کم کیا جائے جس سے پیداواری لاگت میں کمی ہو گی جو برآمدات میں اضافے میں مددگار ثابت ہو گی۔انہوں نے کہا کہ پیداواری لاگت بڑھنے سے صنعتوں کی شرح نمو کم ہو کر رہ گئی ہے جس سے صنعتکاروتاجر برادری پریشانی کا شکار ہیں کیونکہ بڑھتے ہوئے بے جا ٹیکس اور گیس و بجلی کی قیمتوں میں خطے کے دیگر ممالک کی نسبت اضافہ سے اشیاء کی پیداواری لاگت دن بدن بڑھ رہی ہیں جس سے بالواسطہ طور پر عوام متاثر ہورہی ہے۔ پیداوار کم ہونے سے برآمدات بھی متاثر ہو رہی ہیں اور برآمدات میں کمی سے تجارتی خسارہ بڑھتا جا رہا ہے۔ خطے میں دیگر ممالک کی طرح بزنس فرینڈلی پالیسیز ترتیب دی جائیں، بجلی کی قیمتیں زیادہ ہونے سے اشیاء کی پیداواری لاگت بڑھنے سے برآمدات تنزلی کا شکار اور تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے ۔اس لیے فوری طور پربجلی کے انڈسٹریل ٹیرف میں کمی کی ازحد ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…