منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

برآمدات کے لیے جعلی ای فارم استعمال ہونے کا انکشاف

datetime 20  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد( آن لائن ) ملک میں برآمدات کے لیے جعلی ای فارم استعمال ہونے کا انکشاف ہوا ہے جس کا نوٹس لیتے ہوئے وفاقی حکومت نے برآمدات کے لیے استعمال ہونیوالے ای فارمز کی ہفتہ وار بنیادوں پر تصدیق کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے حکام کا کہنا ہے کہ الیکٹرونک ای فارم متعارف کرانے کے بعد جعلی ای فارم پر برآمدات کے امکانات کم سے کم ہوگئے ہیں مگر اب بھی کچھ علاقوں میں زمینی راستے سے برآمدات کے لیے اور بلک کارگو کے لیے دستی ای فارم استعمال ہورہے ہیں۔مذکورہ معاملے پر قومی احتساب بیورو بلوچستان کی پریوینٹو کمیٹی برائے ای فارم کااجلاس ہوا ہے جس میں نیب بلوچستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر اے اینڈ پی سید محمد آفاق، ڈائریکٹرآئی ڈبلیو تھری نیب بلوچستان ہارون الرشید، اسٹیٹ بینک کی فارن ایکس چینج آپریشنز ڈپارٹمنٹ (ایف ای او ڈی)کراچی کے جوائنٹ ڈائریکٹر محمد اکرم ذکی، ایڈیشنل کلکٹر کسٹمز ماڈل کسٹمز کلکٹریٹ کسٹمز ہاس کوئٹہ زبیر شاہ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر نیب بلوچستان محسن علی خان اور سپرنٹنڈنٹ کسٹمز محمد ہادی شریک ہوئے۔اجلاس میں اسٹیٹ بینک کے جوائنٹ ڈائریکٹرفارن ایکس چینج آپریشنزمحمد اکرم ذکی نے بتایا کہ الیکٹرونک ای فارم متعارف کرانے کے بعد سے جعلی ای فارم کی بنیاد پر برآمدات میں بہت کمی ہوئی تاہم کچھ علاقوں میں زمینی راستے سے برآمدات اور بلک کارگو کی برآمدات کے لیے ابھی دستی ای فارم استعمال ہو رہا ہے۔دوسری جانب اسٹیٹ بینک ای فارم کی ہفتہ وار بنیادوں پر تصدیق کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور ای فارمز کی تصدیق کے لیے اسٹیٹ بینک اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے مل کر الیکٹرونک ڈیٹا انٹرچینج (ای

ڈی آئی) متعارف کرانے جا رہا ہے جو جلد متعارف کرا دیا جائے گا اور اس الیکٹرونک ڈیٹا انٹرچینج کے آپریشنل ہونے پر ای فارمز کی الیکٹرانیکل تصدیق ہوا کرے گی اور اس سے جعلی ای فارم کے ذریعے برآمدات کرنے والوں کا سراغ لگانے میں مدد ملے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…