منگل‬‮ ، 24 مارچ‬‮ 2026 

ڈالر کی قیمتوں میں اضافے نے اپنے رنگ دکھانا شروع کردیئے،پاکستان میں 6سالہ ریکارڈ ٹوٹ گئے

datetime 16  دسمبر‬‮  2017 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتہ کے دوران روپے کے نسبت ڈالر کے بھاؤ میں 5 فیصد اضافہ سے امریکن ڈالر پاکستان کی تاریخ کی بلند ترین سطح 112 روپے پر پہنچ گیا جس کے باعث ٹیکسٹائل و اسپننگ ملز نے اعلی کوالٹی کی روئی کی خریداری بڑھادی جس کے باعث روئی کا بھاؤ فی من 500 روپے کے غیر معمولی اضافہ کے ساتھ فی من 7500 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا جس کی وجہ سے مارکیٹ میں بحرانی کیفیت پیدا ہوگئی۔

کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چئیرمین نسیم عثمان نے بتایا کہ اس سے پہلے 2010-11 کی سیزن میں روئی کا بھاؤ فی من 14000 روپے کی پاکستان کی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا اس وقت کروڈ ائل(پیٹرول)کی قیمت میں ہوشربا اضافہ ہوگیا تھا سونا بھی بے تحاشہ بڑھ گیا تھا نیویارک کاٹن میں روئی کا وعدے کا بھاؤ امریکا ہی نہیں دنیا کی تاریخ کی بلند ترین سطح فی پاؤنڈ 2.29 ڈالر پر پہنچ گیا تھا دنیا میں کپاس کا بحران پیدا ہوگیا تھا۔ نسیم عثمان کے مطابق اب 6 سالوں کے بعد روئی کا بھا فی من 7500 روپے کی ریکارڈ سطح کو چھو گیاہے پھٹی، کھل اور تیل کے بھاؤ میں بھی اضافہ ہوگیا۔ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ میں فی من 400 روپے کے اضافہ کے ساتھ فی من 7000 روپے کے بھاؤ پر بند کیا۔صوبہ سندھ میں روئی کا بھاؤ فی من 6300 تا 7500 روپے پھٹی کا بھاؤ فی 40 کلو 2800 تا 3500 روپے جبکہ صوبہ پنجاب میں روئی کا بھاؤ فی من 6400 تا 7500 روپے پھٹی کا بھاؤ فی 40 کلو 2800 تا 3500 روپے رہا۔ بین الاقوامی کاٹن مارکیٹ میں بھی روئی کے بھاؤ میں اضافہ ہوگیا۔ نسیم عثمان نے بتایا کہ ڈالر کے بھاؤ میں اضافہ کی وجہ سے روئی کی درآمد مہنگی ہوجائے گی جبکہ بھارت میں روئی کی پیداوار کم ہونے اور گلابی سنڈی کے شدید حملہ کی وجہ سے فصل خراب ہونے کی وجہ سے بھارت سے روئی کی درآمد بھی مشکل ہوگئی ہے

جس کے باعث مقامی ملز نے کوالٹی کاٹن ہاتھ کرنے کے لئے بھاؤ میں اضافہ کردیاہے۔ اس سال ملک میں کپاس کی پیداوار کم ہونے کی بھی ایک وجہ بتائی جاتی ہے ملک میں کپاس کی پیداوار ابتدائی تخمینہ ایک کروڑ 41 لاکھ گانٹھوں کے نسبت 25 تا 30 لاکھ گانٹھوں کی کم پیداوار تقریبا ایک کروڑ 10 تا 15 لاکھ گانٹھیں ہونے کی توقع ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ڈالر کی قیمت میں مزید اضافہ ہونے کی صورت میں روئی کے بھاؤ میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے روئی کے بھاؤ میں ہوشربا اضافہ کے سبب مقامی ٹیکسٹائل سیکٹر بحرانی کیفیت میں آگیا ہے کیوں کہ کاٹن یارن اور ٹیکسٹائل مصنوعات کی قیمتیں اس نسبت سے نہیں بڑھی ہیں بلکہ ڈالر کے بھاؤ میں اضافہ کے باعث ملز کے لئے گو کہ برآمد میں اضافہ ہوگا لیکن درآمد کی جانے والی اشیا کی درآمد مہنگی ہوجایگی جس کے باعث پیداواری لاگت بڑھ جائے گی۔



کالم



مذہب کی جنگ(آخری حصہ)


اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…