جمعرات‬‮ ، 04 جون‬‮ 2026 

ڈالر کی قیمتوں میں اضافے نے اپنے رنگ دکھانا شروع کردیئے،پاکستان میں 6سالہ ریکارڈ ٹوٹ گئے

datetime 16  دسمبر‬‮  2017 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتہ کے دوران روپے کے نسبت ڈالر کے بھاؤ میں 5 فیصد اضافہ سے امریکن ڈالر پاکستان کی تاریخ کی بلند ترین سطح 112 روپے پر پہنچ گیا جس کے باعث ٹیکسٹائل و اسپننگ ملز نے اعلی کوالٹی کی روئی کی خریداری بڑھادی جس کے باعث روئی کا بھاؤ فی من 500 روپے کے غیر معمولی اضافہ کے ساتھ فی من 7500 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا جس کی وجہ سے مارکیٹ میں بحرانی کیفیت پیدا ہوگئی۔

کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چئیرمین نسیم عثمان نے بتایا کہ اس سے پہلے 2010-11 کی سیزن میں روئی کا بھاؤ فی من 14000 روپے کی پاکستان کی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا اس وقت کروڈ ائل(پیٹرول)کی قیمت میں ہوشربا اضافہ ہوگیا تھا سونا بھی بے تحاشہ بڑھ گیا تھا نیویارک کاٹن میں روئی کا وعدے کا بھاؤ امریکا ہی نہیں دنیا کی تاریخ کی بلند ترین سطح فی پاؤنڈ 2.29 ڈالر پر پہنچ گیا تھا دنیا میں کپاس کا بحران پیدا ہوگیا تھا۔ نسیم عثمان کے مطابق اب 6 سالوں کے بعد روئی کا بھا فی من 7500 روپے کی ریکارڈ سطح کو چھو گیاہے پھٹی، کھل اور تیل کے بھاؤ میں بھی اضافہ ہوگیا۔ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ میں فی من 400 روپے کے اضافہ کے ساتھ فی من 7000 روپے کے بھاؤ پر بند کیا۔صوبہ سندھ میں روئی کا بھاؤ فی من 6300 تا 7500 روپے پھٹی کا بھاؤ فی 40 کلو 2800 تا 3500 روپے جبکہ صوبہ پنجاب میں روئی کا بھاؤ فی من 6400 تا 7500 روپے پھٹی کا بھاؤ فی 40 کلو 2800 تا 3500 روپے رہا۔ بین الاقوامی کاٹن مارکیٹ میں بھی روئی کے بھاؤ میں اضافہ ہوگیا۔ نسیم عثمان نے بتایا کہ ڈالر کے بھاؤ میں اضافہ کی وجہ سے روئی کی درآمد مہنگی ہوجائے گی جبکہ بھارت میں روئی کی پیداوار کم ہونے اور گلابی سنڈی کے شدید حملہ کی وجہ سے فصل خراب ہونے کی وجہ سے بھارت سے روئی کی درآمد بھی مشکل ہوگئی ہے

جس کے باعث مقامی ملز نے کوالٹی کاٹن ہاتھ کرنے کے لئے بھاؤ میں اضافہ کردیاہے۔ اس سال ملک میں کپاس کی پیداوار کم ہونے کی بھی ایک وجہ بتائی جاتی ہے ملک میں کپاس کی پیداوار ابتدائی تخمینہ ایک کروڑ 41 لاکھ گانٹھوں کے نسبت 25 تا 30 لاکھ گانٹھوں کی کم پیداوار تقریبا ایک کروڑ 10 تا 15 لاکھ گانٹھیں ہونے کی توقع ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ڈالر کی قیمت میں مزید اضافہ ہونے کی صورت میں روئی کے بھاؤ میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے روئی کے بھاؤ میں ہوشربا اضافہ کے سبب مقامی ٹیکسٹائل سیکٹر بحرانی کیفیت میں آگیا ہے کیوں کہ کاٹن یارن اور ٹیکسٹائل مصنوعات کی قیمتیں اس نسبت سے نہیں بڑھی ہیں بلکہ ڈالر کے بھاؤ میں اضافہ کے باعث ملز کے لئے گو کہ برآمد میں اضافہ ہوگا لیکن درآمد کی جانے والی اشیا کی درآمد مہنگی ہوجایگی جس کے باعث پیداواری لاگت بڑھ جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…