جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان نے بھارت پر نئی پابندی عائد کردی

datetime 10  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) قرنطینہ ڈپارٹمنٹ نے زرعی خطرات کے پیش نظر بھارت سے مونگ پھلی کی درآمد پر پابندی عائد کردی ہے۔قرنطینہ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے کسٹمز حکام کو ارسال کردہ مراسلے کے ذریعے مطلع کیا گیا ہے کہ بھارت سے درآمد ہونے والی مونگ پھلی میں زرعی بیماریاں موجود ہیں جن سے پاکستان کی زراعت کو بھی خطرات لاحق ہیں۔قرنطینہ ڈپارٹمنٹ نے لالہ انٹرپرائزز

کراچی کی بھارت سے درآمد کی جانے والی لاکھوں روپے مالیت کی 54 ٹن سے زائد مونگ پھلی کی کھیپ کو واپس بھجوانے یا واپس نہ ہونے کی صورت میں تلف کرنے کے احکام جاری کردیے ہیں۔دوسری جانب کسٹمز حکام نے قرنطینہ ڈپارٹمنٹ کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے بھارت سے درآمد کی جانے والے لاکھوں روپے مالیت کی مونگ پھلی کی کلیئرنس روک دی گئی جس سے مونگ پھلی کے درآمد کنندگان میں تشویش پھیل گئی ہے اور بھارت سے روانہ ہوچکی مونگ پھلی کے سودے خطرے میں پڑگئے ہیں۔درآمد کنندگان کے مطابق چین سے مونگ پھلی کی درآمد پہلے ہی بند کی جا چکی ہے اور اب 3روز قبل بھارتی مونگ پھلی کے لیبارٹری ٹیسٹ کے بعد مونگ پھلی کے چھلکے میں بیماری کی موجودگی کو جواز بناکر بھارتی مونگ پھلی کی کلیئرنس بھی روک دی گئی ہے۔ادھر جوڑیا بازار میں مونگ پھلی کے تاجروں کا کہنا ہے کہ بھارت سے مونگ پھلی کی درآمد سے مارکیٹ میں مونگ پھلی کی قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، پاکستان میں سکھر اور پاراچنار کی مونگ پھلی وافر مقدار میں دستیاب ہے، بھارتی مونگ پھلی پاکستانی مونگ پھلی سے سستی ہونے کی وجہ سے درآمد کی جارہی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…