بدھ‬‮ ، 08 اپریل‬‮ 2026 

امریکی رویے سے معیشت فوری متاثر نہیں ہوگی ؛ طارق باجوہ

datetime 24  اگست‬‮  2017 |

کراچی(این این آئی)اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر طارق باجوہ نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی فارن پالیسی کا حصہ تھی، اس کا جواب پاکستان مناسب انداز میں دے چکا ہے۔امریکی رویے کے پاکستان معیشت پر فوری منفی اثرات کا کوئی امکان نہیں ہے، بہت سے غیرملکی پاکستان آنے سے گھبراتے ہیں، بیرونی خسارہ خطرہ ضرور ہے مگر اس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔شرح سود میں کمی کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں، معیشت درست سمت میں جارہی ہے،

ایگزم بینک دسمبر تک کام شروع کردے گا۔گزشتہ روز کو وفاق ایوان ہائے صنعت وتجارت پاکستان(ایف پی سی سی آئی)میں ممبران سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طارق باجوہ نے کہا کہ ایرانی حکام سے بینکنگ چینل کے ذریعہ ادائیگیوں کے معاملے پر بات چیت جاری ہے اور اس سلسلے میں دو بینکوں کے درمیان رابطہ ہے، ایران کی مارکیٹ پاکستان کے لیے اہم ہے، پاکستان سے ایران کو بیشتر اشیا اسمگل ہو رہی ہیں اور ایران سے پاکستان آ رہی ہیں لیکن ہم ایران کو کی جانے والی اشیا کی اسمگلنگ کو قانونی ذرائع سے بھیجنا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں ہماری ایران کے مرکزی بینک سے بات چیت جاری ہے۔طارق باجوہ نے کہا کہ ترقی کے بہت سے اہداف حاصل کرنے ہیں، ابھی تو سفر شروع ہوا ہے، آف شور ٹریڈنگ کی اجازت دینے کے معاملے پر غور کررہے ہیں، ٹیکنالوجی چیلنج پر کام جاری ہے، جلد اعلان کیا جائے گا۔گورنراسٹیٹ بینک نے بزنس کمیونٹی کے مطالبے پرکہا کہ سرمائے کو وطن واپس لانے کے لیے ایمنسٹی اسکیم پر کافی کام ہو چکا ہے تاہم یہ تجویز ایف پی سی سی آئی اور چیمبرز کی طرف سے آنی چاہیے، ایمنسٹی اسکیم کے لیے ایک چیمبر نے تجویز بھیجی ہے، ایمنسٹی اسکیم کا اعلان ایک مرتبہ ہونا چاہیے اور یہ لوگوں کو باور کرا دیا جائے تاہم ملک سے جانے والے سرمائے کو واپس لانے کے لیے ایمنسٹی اسکیم میں کوئی حرج نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شکایات کے ازالے کے لیے اسٹیٹ میں جلد ہی کال سینٹر کام شروع کردے گا۔گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ پاکستان میں مکانات کی کمی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے مگرکنسٹرکشن انڈسٹری کو خرید و فروخت تک زیادہ محدود کردیا گیا ہے۔اس کے باجود کنسٹرکشن انڈسٹری کی اہمیت سے انکارنہیں ہے، کمرشل بینک ہاسنگ سیکٹر کو فنانسنگ میں تعاون کریں۔ ڈاکٹر اختیار بیگ اور دیگر کاروباری شخصیات کی جانب سے فنکشنل مانیٹرنگ یونٹ (ایف ایم یو)کے حوالے سے سوال کیا گیا کہ

ایسی ٹرانزیکشن جو بڑی ہوتی ہیں یا ان کی پیمنٹس یکدم آئی ہو تواس کی اطلاع ایف ایم یو تحقیقاتی اداروں کو دے دیتا ہے جس سے بیرونی خریداروں کے سامنے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس کے جواب میں گورنراسٹیٹ بینک نے کہا کہ ایف ایم یو اسٹیٹ بینک کے نہیں بلکہ وزارت خزانہ کے تحت ہے اس لیے اس بارے میں جواب دینا وزارت خزانہ کا کام ہے۔ طارق باجوہ نے کہا کہ پاکستان کو صنعتی معیشت کے بجائے خدماتی معیشت بنادیا گیا ہے۔معیشت کو دستاویزی کرنا ہوگا،

پاکستانی معیشت مشکلات کا سامنا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، ایس ایم ایز کو ترقی دیے بغیر انڈسٹری کی مجموعی نمو ممکن نہیں، دنیا میں اس کی مثالیں موجود ہیں، ایس ایم ایز کے بعد ذراعت پر سب سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے سارک ممالک کے درمیان بینکنگ چینل کے قیام کے حوالے سے کہا کہ سارک کے کئی ممالک میں پاکستانی بینکوں کی شاخیں کام کر رہی ہیں تاہم ایک دو ممالک ایسے ہیں جہاں کچھ وجوہ کی بنا پر بینکنگ چینل کا قیام فی الحال ممکن نہیں۔ طارق باجوہ نے کہا کہ ایک خاص حد تک مالی خسارہ ملک کی ضرورت ہے، ابھی ہم اس سطح تک نہیں پہنچے کہ خسارے کے بغیر بجٹ دے سکیں، بھارت میں خسارہ ساڑھے10فیصدسے زیادہ ہے، سب گروتھ کی بات کرتے ہیں، اصل کام گروتھ کا ہے،گروتھ کے بغیربارات دولہا کے بغیر ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)


جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…