جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ایک ارب ڈالرسے کم کمانے والی کمپنیز میں 5 پاکستانی کمپنیاں بھی شامل،نام جاری

datetime 28  جولائی  2017 |

اسلام آباد (این این آئی)سالانہ ایک ارب ڈالر سے کم آمدنی کرنے والی ایشیائی کمپنیوں کی فہرست میں 5 پاکستانی کمپنیاں بھی جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئیں۔معروف امریکی جریدے فوربز کی جانب سے سال 2017 کی ایک ارب ڈالر سے کم کمانے والی 200 بہترین کمپنیز کی فہرست جاری کردی گئی۔فہرست میں پاکستان، ہندوستان، جاپان، چین، سنگاپور، جنوبی کوریا اور ملائیشیا سمیت 13 ممالک کی 200 کمپنیز جگہ بنانے میں کامیاب ہوئیں۔

اس فہرست میں ان کمپنیز کو شامل کیا گیا جن کی کمائی، اثاثوں اور مصنوعات کی فروخت میں مسلسل اضافہ ہوا تاہم اس فہرست میں صرف ان ہی کمپنیوں کو جگہ دی گئی، جن کی کمائی اور مارکیٹ ویلیو ایک ارب ڈالر سے کم رہی، 200 کمپنیز کی فہرست میں سب سے زیادہ کمپنیاں جاپان کی ہیں، جب کہ دوسرے نمبر پر چینی کمپنیاں ہیں۔فہرست میں شامل 200 کمپنیز میں سے 38 کمپنیاں جاپانی ہیں ٗچین، تائیوان اور ہانگ کانگ کی کمپنیز کی تعداد میں کمی ہوئی ٗ گزشتہ سال ان ممالک کی 130 کمپنیاں ایسی تھیں، جن کہ سالانہ کمائی ایک ارب ڈالر سے کم تھی۔ فہرست میں پاکستان کی 5 کمپنیاں بھی جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی ہیں ٗ گزشتہ برس اس فہرست میں پاکستان کی 7 کمپنیاں شامل تھیں، فہرست میں بھارت کی بھی کچھ کمپنیاں شامل کی گئی ہیں۔پاکستانی کمپنیز میں سب سے سرفہرست فارماسیوٹیکل کمپنی ’فیروز سنز‘ ہے ٗجو گزشتہ برس بھی اس فرہست میں شامل تھی، اس کمپنی نے سال بھر میں 2 کروڑ ایک لاکھ ڈالر کمائے، اور اس کی مارکیٹ ویلیو 10 کروڑ 20 لاکھ سے زائد ہے۔دوا ساز کمپنی سرلِ پاکستان نے بھی سال بھر میں ایک کروڑ 90 لاکھ امریکی ڈالر کمائے، مگر اس کی مارکیٹ ویلیو 70 کروڑ کے لگ بھگ ہے۔سیمنٹ انڈسٹری کیلئے تھیلے اور بیگ تیار کرنے والی کمپنی چیرت پیکیجنگ نے سال بھر میں 90 لاکھ امریکی ڈالر کمائے اور اس کی مارکیٹ ویلیو 6 کروڑ 40 لاکھ ڈالر سے زائد ہے۔مختلف گاڑیاں،

ٹرکیں اور بسیں بنانے والی کمپنی گندھارا انڈسٹریزنے 2017 کے دوران 70 لاکھ امریکی ڈالر کمائے، مگر اس کمپنی کی مارکیٹ ویلیو بھی 11 کروڑ 30 لاکھ تک ہے۔موٹر سائیکل ٹریکٹر اور زرعی آلات بنانے والی ایگری آٹو انڈسٹری مینیو فیکچرز کمپنی بھی اس فہرست میں شامل ہے، اس کمپنی نے سال بھر میں صرف 70 لاکھ ڈالر کمائے، مگر اس کی مارکیٹ ویلیو بھی 10 کروڑ 50 لاکھ روپے تک ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…