پشاور(آن لائن)صوبائی دارلحکومت پشاورمیں نئے اے سی رکشہ سروس شروع کیا جا رہاہے آٹو رکشہ بنانے والے کمپنی نے اے سی نصب شدہ رکشہ تیار کیا ہے کمپنی کی جانب سے رکشہ کی قیمت دو لاکھ روپے مقرر کی ہے لاہور کی کمپنی کی جانب سے تیار کئے جانے والے اے سی رکشوں کو نمائش کے لئے آئندہ دو روزمیں پشاور لا یا جا رہاہے صوبائی دارلحکومت پشاور میں سولر رکشے چلانے کا منصوبہ بھی زیر غورہے تاہم اے
سی رکشوں کی آمدکے باعث شہریوں کی مشکلات میں کمی ہو گی صوبائی دارلحکومت پشاور میں چالیس ہزار سے زائد رجسٹرڈ اورغیررجسٹرڈ رکشے پہلے سے ہی چل رہے ہیں نئے اے سی رکشوں سی این جی اورپیٹرول پر چلتے ہیں ۔
پشاور کی مزید خبریں پڑھیں
سزائے موت کے چار ، عمر قید کے نو سمیت 400سو قیدیوں نے میٹرک کے امتحانات پاس کر لئے
پشاور(آن لائن)سزائے موت کے چار ، عمر قید کے نو سمیت 400سو قیدیوں نے میٹرک کے امتحانات پاس کر لئے ہیں پشاور تعلیمی بورڈ کے زیر اہتمام ہونے والے میٹرک کے نتائج میں 150قیدیوں نے امتحانات دیئے تھے جس میں سو قیدیوں نے میٹرک کے امتحانات پاس کر لئے ہیں بیس قیدیوں کے دو پرچے جبکہ تیس قیدیوں کے تین سے زائد پرچے فیل ہو ئے ہیں جیل خانہ جات ذرائع کے مطابق جیل انتظامیہ کی جانب سے میٹرک ،ایف اے ، بی اے ، ایم اے کے امتحانات کے ہر سال مناسب انتظامات کئے جاتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ قیدی امتحانات دے سکیں صوبے کے آٹھوں تعلیمی بورڈ کے زیر اہتمام مجموعی طور پر ایک ہزار قیدیوں نے امتحانات دیئے تھے جس میں چھ سو فیل ہو چکے ہیں جبکہ چار سو قیدی پاس ہو ئے ہیں جن میں سزائے موت ، عمرقید سمیت سنگین دیر جرائم میں ملوث قیدی شامل ہیں ۔ صوبائی حکومت اورجیل خانہ جات انتظامیہ کی جانب سے خصوصی انتظامات کے باعث زیادہ سے زیادہ قیدی امتحانات دے رہے ہیں
وفاقی حکومت نے بجلی بقایا جات کی مد میں 9ارب 80کروڑ روپے ادا کردیئے
پشاور(آن لائن) وفاقی حکومت نے بجلی بقایا جات کی مد میں 9ارب 80کروڑ روپے ادا کردیئے ہیں موجود مالی سال کے آخری قسط کی ادائیگی کردی گئی ہے بجلی خالص منافع جات کی مد میں پندرہ ارب میں سے اب تک پندرہ ارب سے زائد کی ادائیگی کی جا چکی ہے اے این جی قاضی فارمولے کے تحت 2005سے 2015-16تک عرصہ کے لئے بجلی کے خالص منافع جات کی مد میں 88ارب روپے وفاق نے تسلیم کئے تھے اور اے این پی کے دور حکومت میں اٹھارہ ارب روپے کی کٹوتی کی گئی تھی جبکہ بقایا ستر ارب روپے کی ادائیگی چار قسطوں میں کی جانی تھی صوبے کوآئندہ دو سالوں کے دوران پندرہ ، پندرہ ارب روپے کی دو قسطیں ادا کی جائیگی ذرائع نے بتایا ہے کہ وفاقی حکومت نے مزید 9ارب 80کروڑ روپے کی ادائیگی گزشتہ روز کردی ہے مالی سال کے اختتام پر وفاقی حکومت نے صوبے کو ادائیگی کردی ہے ۔



















































