پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

”سی پیک “کے بعد”بلیوویز“چین نے پاکستان کیلئے تین نئے راستے کھول دیئے،زبردست انکشافات

datetime 22  جون‬‮  2017 |

بیجنگ (آن لائن) چین نے بیلٹ و روڈ منصوبے کے تحت بحری تعاون میں پیشرفت کی کوشش کے طورپر سمندرمیں قائم تین ’’ نیلے اقتصادی راستوں ‘‘ کامنصوبہ پیش کیا ہے جو ایشیاء کو افریقہ ، اوشینیا ، یورپ اور اس سے آگے تک ملائے گا ، امید کی جاتی ہے کہ اس منصوبے سے پاکستان بھی مستفید ہو گا جو کہ بیلٹ و روڈ منصوبے سے فائدہ اٹھانے والا اہم ملک ہے ، چین ۔پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک ) دونوں

ممالک کو سڑک، ریل اور سمندری راستوں کے ذریعے ملا کر مکمل پیکج فراہم کرتا ہے ،سی پیک کے تحت گوادر بحری سرگرمیوں کا اہم گڑھ ہے ، ذرائع نے جمعرات کو یہاں بتایا کہ چین اور پاکستان کے درمیان بحری شعبے میں شاندار تعاون ہے ، ’’ نیلے اقتصادی راستوں ‘‘ کی تجویز چین کے مجموعی عالمی رابطے منصوبے جو بالخصوص اس کے ہمسائیہ ملکوں پر مشتمل ہے کا حصہ ہے ،اس تجویز کو ’’قومی ترقیاتی و اصلاحات کمیشن اور سرکاری محکمہ سمندر کی طرف سے رواں ہفتے یہاں جاری کئے جانیوالے بیلٹ و روڈ منصوبے کے تحت’’ بحری تعاون کا تصور ‘‘ میں شامل کی گئی ہے۔دستاویز کے مطابق چین تمام جہتی اور وسیع البنیاد امکانات والے بحری تعاون میں شامل ہونے اور اکیسویں صدی کی بحری شاہراہ ریشم سے متصل ممالک کے ساتھ کھلے ، مشمولہ تعاون پلیٹ فارم تعمیر کرنے باہمی طورپر سود مند ’’ بلیو پارٹنر شپ ‘‘ کو فروغ دینے اور پائیدار ترقی کیلئے ’’ نیو انجن ‘‘ کو فروغ دینے پرآمادہ ہے، تینوں نیلے اقتصادی راستے ترجیحی بحری تعاون فرائض ہونگے ۔چین۔ بحیرہند ۔افریقہ ۔ بحیرہ روم نیلا اقتصادی راستہ بحیرہ جنوبی چین سے بحر ہند کے ذریعے مغرب کی طرف جائے گا اور چین ۔جزیرہ انڈونیشیا اقتصادی راہداری سے ملے گا اور چین ۔ پاکستان ،بنگلہ دیش ۔ چین ۔ بھارت ۔ میانمر اقتصادی راہداریوں کو ملائے گا ،

چین ۔اوشینیا ۔ جنوبی بحرالکاہل کا راستہ بحیرہ جنوبی چین کے ذریعے جنوب کی جانب الکاہل تک جائے گا جبکہ ایک اور اقتصادی راستہ کے بارے میں بحیر ہ آرکیٹیک کے ذریعے یورپ کو ملانے کا پروگرام ہے۔دستاویز میں 21صدی کی بحری شاہراہ ریشم سے متصل ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ بلیو سپیس میں شیئرنگ اور بلیو اکانومی کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کریں جس میں بحری ماحولیاتی تحفظ ، بحری رابطے ، بحری سلامتی اور مشترکہ سمندری گورننس جیسے امور کوہدف بنایا جائے گا ۔دستاویز میں کہا گیا ہے کہ چین امن و تعاون ، کھلے پن و مشمولیت ، باہمی طورپر سیکھنے اور باہمی مفاد ،اختلافات ترک کرنے اور اتفاق رائے قائم کرنے کے شاہراہ ریشم کے جذبے کی پاسداری کرے گا ،

یہ دستاویز مئی میں منعقدہ بین الاقوامی تعاون کیلئے بیلٹ وروڈ فورم کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔دستاویز میں مزید کہا گیا ہے کہ چین یہ وعدہ بھی کرتا ہے کہ وہ مارکیٹ قوانین اور بین الاقوامی اقدار کی پاسداری کرے گا اور کمپنیوں کے بنیادی کردار ادا کرنے کی ا جازت دے گا ۔دستاویزمیں شرکاء ممالک کے درمیان مشترکہ ترقی و فوائد کے تبادلے کی ضرورت پرزوردیا گیا ہے۔دستاویزمیں کہا گیا ہے کہ ’’ہم اکٹھے منصوبہ بنائیں گے ، اکٹھے ترقی کریں گے اور تعاون کے ثمرات کا تبادلہ کریں گے ‘‘۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…