منگل‬‮ ، 23 جون‬‮ 2026 

”سی پیک “کے بعد”بلیوویز“چین نے پاکستان کیلئے تین نئے راستے کھول دیئے،زبردست انکشافات

datetime 22  جون‬‮  2017 |

بیجنگ (آن لائن) چین نے بیلٹ و روڈ منصوبے کے تحت بحری تعاون میں پیشرفت کی کوشش کے طورپر سمندرمیں قائم تین ’’ نیلے اقتصادی راستوں ‘‘ کامنصوبہ پیش کیا ہے جو ایشیاء کو افریقہ ، اوشینیا ، یورپ اور اس سے آگے تک ملائے گا ، امید کی جاتی ہے کہ اس منصوبے سے پاکستان بھی مستفید ہو گا جو کہ بیلٹ و روڈ منصوبے سے فائدہ اٹھانے والا اہم ملک ہے ، چین ۔پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک ) دونوں

ممالک کو سڑک، ریل اور سمندری راستوں کے ذریعے ملا کر مکمل پیکج فراہم کرتا ہے ،سی پیک کے تحت گوادر بحری سرگرمیوں کا اہم گڑھ ہے ، ذرائع نے جمعرات کو یہاں بتایا کہ چین اور پاکستان کے درمیان بحری شعبے میں شاندار تعاون ہے ، ’’ نیلے اقتصادی راستوں ‘‘ کی تجویز چین کے مجموعی عالمی رابطے منصوبے جو بالخصوص اس کے ہمسائیہ ملکوں پر مشتمل ہے کا حصہ ہے ،اس تجویز کو ’’قومی ترقیاتی و اصلاحات کمیشن اور سرکاری محکمہ سمندر کی طرف سے رواں ہفتے یہاں جاری کئے جانیوالے بیلٹ و روڈ منصوبے کے تحت’’ بحری تعاون کا تصور ‘‘ میں شامل کی گئی ہے۔دستاویز کے مطابق چین تمام جہتی اور وسیع البنیاد امکانات والے بحری تعاون میں شامل ہونے اور اکیسویں صدی کی بحری شاہراہ ریشم سے متصل ممالک کے ساتھ کھلے ، مشمولہ تعاون پلیٹ فارم تعمیر کرنے باہمی طورپر سود مند ’’ بلیو پارٹنر شپ ‘‘ کو فروغ دینے اور پائیدار ترقی کیلئے ’’ نیو انجن ‘‘ کو فروغ دینے پرآمادہ ہے، تینوں نیلے اقتصادی راستے ترجیحی بحری تعاون فرائض ہونگے ۔چین۔ بحیرہند ۔افریقہ ۔ بحیرہ روم نیلا اقتصادی راستہ بحیرہ جنوبی چین سے بحر ہند کے ذریعے مغرب کی طرف جائے گا اور چین ۔جزیرہ انڈونیشیا اقتصادی راہداری سے ملے گا اور چین ۔ پاکستان ،بنگلہ دیش ۔ چین ۔ بھارت ۔ میانمر اقتصادی راہداریوں کو ملائے گا ،

چین ۔اوشینیا ۔ جنوبی بحرالکاہل کا راستہ بحیرہ جنوبی چین کے ذریعے جنوب کی جانب الکاہل تک جائے گا جبکہ ایک اور اقتصادی راستہ کے بارے میں بحیر ہ آرکیٹیک کے ذریعے یورپ کو ملانے کا پروگرام ہے۔دستاویز میں 21صدی کی بحری شاہراہ ریشم سے متصل ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ بلیو سپیس میں شیئرنگ اور بلیو اکانومی کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کریں جس میں بحری ماحولیاتی تحفظ ، بحری رابطے ، بحری سلامتی اور مشترکہ سمندری گورننس جیسے امور کوہدف بنایا جائے گا ۔دستاویز میں کہا گیا ہے کہ چین امن و تعاون ، کھلے پن و مشمولیت ، باہمی طورپر سیکھنے اور باہمی مفاد ،اختلافات ترک کرنے اور اتفاق رائے قائم کرنے کے شاہراہ ریشم کے جذبے کی پاسداری کرے گا ،

یہ دستاویز مئی میں منعقدہ بین الاقوامی تعاون کیلئے بیلٹ وروڈ فورم کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔دستاویز میں مزید کہا گیا ہے کہ چین یہ وعدہ بھی کرتا ہے کہ وہ مارکیٹ قوانین اور بین الاقوامی اقدار کی پاسداری کرے گا اور کمپنیوں کے بنیادی کردار ادا کرنے کی ا جازت دے گا ۔دستاویزمیں شرکاء ممالک کے درمیان مشترکہ ترقی و فوائد کے تبادلے کی ضرورت پرزوردیا گیا ہے۔دستاویزمیں کہا گیا ہے کہ ’’ہم اکٹھے منصوبہ بنائیں گے ، اکٹھے ترقی کریں گے اور تعاون کے ثمرات کا تبادلہ کریں گے ‘‘۔



کالم



فورنگ میں ایک رات


ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…