جمعرات‬‮ ، 22 جنوری‬‮ 2026 

ٹرانسپورٹ کے نظام پرغیرضروری تنقید

datetime 5  دسمبر‬‮  2016 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے کہ کچھ افراد عوامی سہولتوں کے منصوبوں پرتنقید کرکے اپناقدبڑاکرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔موجودہ صورتحال کوہی مدنظررکھاجائے ۔مثال کے طورپرہمیں یہ کہاجائے کہ انگریزی لفظ pپرتین بڑی باتیں بنائیں توہم پاکستان ،پالیٹکس اورپراگریس لکھیں گے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ لیکن کے بارے میں کچھ اورکہاجائے تویہ ہمارے لئے مشکل ہوگا۔ہمیں سیاست سے بالاترہوکرپاکستان کودیکھناچاہیے ،ہمیں سیاست کوترقی سے دوررکھناچاہیے ۔پاکستان میں ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی اگرہم اس کوسیاسی رنگ دیناچھوڑدیں ۔

ہرمعاملے کوسیاسی رنگ دینے سے کئی منصوبوں کی ترقی کے ثمرات ضائع ہوجاتے ہیں اورپاکستان میں ایسی ہی تنقید بعض اوقات کئی مسائل پیداہورہے ہیں جب بھی وفاقی حکومت عوام کی فلاح کےلئے کوئی منصوبہ شروع کرنے کی تیاری کرتی ہے تودوسر ی جماعتوں کی طرف سے اس منصوبے کوشروع کرنے سے پہلے ہی تنقید شروع ہوجاتی ہے اوراپنے موقف درست ثابت کرنے کےلئے یہ جماعتیں ہزاروں دلائل ڈھونڈلیتی ہیں ۔
ٹرانسپورٹ کاپنجاب اورسندھ میں ایک بڑامسئلہ ہے مجھے یادہے کہ جب کبھی ہم والوبسوں ،ویگینوں میں پنجاب اورسندھ میں سفرکریں توسفراتنامشکل ہوتاہے کہ ہم سفرکرنے سے ہی اکتاجاتے ہیں لیکن دوسری طرف جب سیاسی جماعتوں کودیکھتے ہیں تووہ حکومت کے سفری سہولیات کے لئے شروع کئے گئے منصوبوں کونتقید کانشانہ بنارہے ہوتے ہیں ۔اسکی بڑی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں کے پاس سفری سہولتیں ہیں جبکہ عام لوگوں کے پاس ایسی سہولتیں میسرنہیں ہیں ۔

گزشتہ روزمیرے ایک کزن نے مجھے کہاکہ ہمیںبہت افسوس ہورہاہے کہ حکومت ناظم آبادفلائی اوورکوگرارہی ہے جس سے گرین بیلٹ کونقصان ہوگایہ میراوہی کزن ہے جوکہ کراچی میں ٹرانسپورٹ کے نظام کوہمیشہ تنقید کانشانہ بناتانظرآتاہے اوروہ کراچی میں فلائی اوورزنہ ہونے کی وجہ سے عوام کی مشکلات کاذکرکررہاہوتاہے ۔

اس لئے میں نے اندازہ لگایاکہ حکومت کوکچھ وقت دیناچاہیے کہ وہ عوام کوسہولتیں فراہم کرنے کےلئےبہترطورپرکام کرسکے جبکہ اس حکومت کےلئے ضروری نہیں ہے کہ وہ عوامی فلاح کے منصوبوں پرکسی سے منظوری لے ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا(دوم)


مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…