جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

معروف ہاوسنگ سوسائٹی ٹیکس چور نکلی ، تہلکہ خیز انکشاف

datetime 17  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)معروف ہاوسنگ سوسائٹی ٹیکس چور نکلی ، تہلکہ خیز انکشاف .ایف بی آر کے ماتحت ادارے دائریکٹوریٹ جنزل انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ یونیو نے ایک ہاؤسنگ سوسائٹی پاکستان ایکس پٹیریٹس کو آپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کی جانب سے مبینہ طور پر کروڑوں روپے کی سیلز ٹیکس چوری کا سُراغ لگا لیا۔ ڈی جی انٹیلی ج نسنے مقدمہ کیلئے کیس چیف کمشنر کارپوریٹ ریجنل ٹیکس آفس لاہور کو بھجوا دیا تاکہ چوری شدہ ٹیکس واجبات اور جرمانے کی رقم کی وصولی کیلئے کارروائی ہو سکے۔ ایک قومی اخبارکو دستیاب دستاویز کے مطابق انٹیلی ج نسڈائزیکٹوریٹ کو جامع معلومات موصول ہوئیں تھی جسکی بنیاد پر باقاعدہ تحقیقات کی گئیں تو اٹھارہ کروڑ روپے سے زائد کی ٹیکس چوری کے ٹھوس شواہد ملے۔

تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ سوسائٹی نہ صرف رہائشیوں کو بجلی کی ٹرانسمیشن و ڈسٹری بیوشن کر رہی تھی بلکہ کمرشل صارفین کو بھی بجلی دی جا رہی تھی۔ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی سیکشن 3 کے تحت بجلی پر معمول کے مطابق سیلز ٹیکس اور ایکسٹرا ٹیکس عائد ہے جبکہ پاکستان ایکس پٹیریٹس کو آپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی خود سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی سیکشن 14 کے تحت سیلز ٹیکس رجسٹرڈ نہیں ہے۔ دستاویز میں انکشاف کیا گیا کہ ستمبر سے جون تک کے عرصہ کیلئے سوسائٹی کے ذمہ مجموعی طور پر اٹھارہ کروڑ 71 لاکھ 60 ہزار538 روپے کے سیلز ٹیکس واجبات تھے جو جمع نہیں کرائے گئے۔ دستاویز میں بتایا گیا کہ پاکستان ایکس پٹیریٹس کو آپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…