بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

سی پیک منصوبے سے خطے کے تین ارب عوام کو فائدہ ہوگا ٗوزارت منصوبہ بندی وترقی

datetime 28  اگست‬‮  2016 |

اسلام آباد (این این آئی) وزارت منصوبہ بندی و ترقی نے کہا ہے کہ سی پیک منصوبے سے خطے کے تین ارب عوام کو فائدہ ہوگا ٗمنصوبے کے تحت تجارتی مراکز قائم کئے جائیں گے جس سے ملک کی معیشت مستحکم ہوگی ٗطویل، کشادہ اور محفوظ سڑکیں، توانائی کے منصوبے ٗبلوچستان اور خیبر پختونخوا کے پسماندہ علاقوں کے عوام کے لئے ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا ۔ وزارت منصوبہ بندی وترقی کے حکام نے بتایا کہ رواں سال کے آخر تک پاک چین اقتصادی راہداری سے ملک کے تمام صوبوں کو یکساں فوائد ملنا شروع ہو جائیں گے، سی پیک کے قلیل مدتی منصوبے 2017۔2018 ٗطویل مدتی منصوبے 2020ء تا 2030ء تک مکمل ہو جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ تکمیلی مراحل کے دوران ہی سڑکوں اور بجلی کے منصوبوں کے فوائد عوام کو ملنے لگے ہیں، کراچی کا بن قاسم پاور پلانٹ اگلے سال کے آخر تک بجلی کی پیداوار شروع کردے گا، کوئلے سے چلنے والے 660 میگا واٹ کے 2 پاور پلانٹس کی تعمیر سے حاصل ہونے والی 1320 میگاواٹ بجلی نظام میں آنے سے شارٹ فال ایک تہائی کم ہوجائے گا۔انہوں نے بتایا کہ قراقرم ہائی وے کو بہتر بنانے کے ساتھ ایم فور نیشنل موٹر وے پر بھی چینی انجینئرز دن رات کام میں مصروف ہیں، ریل ویز اور لائٹ ریلز کی اپ گریڈیشن بھی اسی منصوبے کا حصہ ہیں۔انہوں نے بتایا کہ منصوبے کا محور گوادر ہے جہاں سی پیک منصوبہ بحیرہ ہند سے ملتا ہے، یہیں سے تمام وسائل پاکستان کے مرکز اور مغربی چین کو جائیں گے، جبکہ پاکستان اور چین میں تیار ہونے والا مال دنیا بھرمیں بھیجا جائے گا۔گوادرمیں فری ٹریڈ زون، اسپیشل اکنامک زون، کوسٹل ہائی وے اور بین الاقوامی ہوائی اڈا بھی تکمیل کے مراحل میں ہے، یوں 2013 ء میں شروع کیا جانے والے یہ منصوبہ گودار کو مچھیروں کے قصبے سے جدید شہر میں بدل دے گا۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے چین کے ساتھ سیاسی تعلقات سٹرٹیجک اکنامک تعلقات میں تبدیل ہو چکے ہیں، اس کے ہماری ترقی اور خطے کے مستقبل پر مثبت اثرات مرتب ہونگے۔ گوادر سی پیک کا گیٹ وے ہو گا، یہ اس صدی کا بڑا موقع ہے اس کو ضائع نہیں کر سکتے۔ خطے کے تین ارب عوام کو اس کا فائدہ ہوگا ۔انہوں نے بتایا کہ منصوبے کے تحت تجارتی مراکز قائم کئے جائیں گے جس سے ملک کی معیشت مستحکم ہوگی ، مقامی مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک فوری رسائی ممکن ہوں گی، مقامی آبادی کی اقتصادی حالت مزید بہتر ہوں گی جبکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے سے پاکستان کو ایشن ٹائیگر بنانے کا خواب پورا ہوگا ۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…