بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

غیرقانونی منی چینجرز کیخلاف بڑے اقدام کی تیاریاں

datetime 14  اگست‬‮  2016 |

لاہور( این این آئی )مرکزی بینک اور ایف آئی اے کے درمیان معاہدہ طے پانے کے بعد آنے والے دنوں میں ملک بھر میں غیرقانونی منی چینجرز کیخلاف وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن کا امکان ہے ،رجسٹریشن نہ کرانے والوں کو قانونی دائرے میں لانے کیلئے بھی اقدامات کئے جائیں گے ۔ بتایا گیا ہے کہ مرکزی بینک اور ایف آئی اے کے درمیان معاہدہ طے پانے کے بعد ملک بھر میں غیر قانوہنی منی چینجرز کے خلاف وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع ہونے کا امکان ہے اور دونوں اداروں کی مشترکہ کارروائیوں سے غیر قانونی تجارت اور دہشتگردوں کی فنڈنگ کو روکنے میں بھی مدد ملے گی۔فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر ملک بوستان نے کہا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق مطابق ملک بھر میں تقریباً30ہزار غیر قانونی منی ایکسچینجرز کام کررہے ہیں اورغیر قانونی منی چینجرز کے ذریعے رقوم کی غیر قانونی منتقلی کا حجم لاکھوں ڈالرز ہے ۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق غیر قانونی طریقے سے منتقل ہونے والی رقم دہشت گردوں کی فنڈنگ کیلئے بھی استعمال ہوسکتی ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق حالیہ برسوں میں پاکستان سے اربوں ڈالرز دبئی اسمگل ہوئے اور دبئی میں پراپرٹی کے کاروبار میں پاکستانی بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کررہے ہیں لیکن یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ رقم پاکستان سے کیسے منتقل ہوئی۔اسی طرح آف شور کمپنیوں میں بھی اربوں ڈالرز پاکستان سے منتقل کیے گئے اور متعلقہ ادارے اسمگلنگ کا سراغ لگانے میں ناکام رہیں۔اس حوالے سے لائسنس یافتہ کرنسی ڈیلرز سے کئی ماہ سے تحقیقات کی جارہی ہیں تاہم اب تک کوئی ٹھوس شواہد سامنے نہیں آسکے ہیں۔کرنسی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ غیر قانونی طریقوں سے رقوم کی بیرون ملک منتقلی میں غیر لائسنس یافتہ لوگ ملوث ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…