بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

رائے ونڈ میں پراپرٹی کے بڑے سکینڈل نے سِر اُٹھالیا،تہلکہ خیز انکشافات

datetime 12  اگست‬‮  2016 |

رائے ونڈ (این این آئی)رائے ونڈ مین بازار کی 100سے زائدسرکاری دکانوں کی غیر قانونی فروخت کا انکشاف ہوا ہے ،156دکانوں میں سے صرف 34 کے اصل لیز ہو لڈر موجود ہیں ۔ذرائع کے مطابق رائے ونڈ ٹاؤن کمیٹی کی ملکیتی 156دکانوں میں سے 100سے زائد لیز ہولڈر غیر قانونی طور پر دکانیں فروخت کرچکے ہیں ۔1967میں 156دکانیں لیز پر دی گئیں جن میں تہہ خانوں ،ڈبل سٹوری ،بروقت کرائے کی ادائیگی ،شکمی کرائے دارپر پابندی سمیت دیگر شرائط پر عملد رآمد کو یقینی بنانے کیلئے معاہدے کئے گئے تھے ۔نصف صدی گزرنے کے بعد لیز ہولڈرز نے اپنی دکانیں 50لاکھ سے 80لاکھ روپے دفی دکان فروخت کرکے قانون کی دھجیاں اڑا دیں ۔مزید برآں سی او یونٹ کو کرایوں کی ادائیگی بند کردی جس کے باعث متعدد بار دکانیں سربمہر ہو تی رہیں لیز ہولڈرز نے اپنی دکانوں کے آگے پھٹے لگوا کر ان سے 2سے پانچ لاکھ پیشگی اور 15سے 20ہزار روپے ماہوار کرایے وصول کئے جارہے ہیں جبکہ سی او یونٹ کا اصل کرایہ بھی ادا نہیں کیا جارہا -گزشتہ روز مین بازار میں واقع سرکاری دکان نمبر 43کی 80لاکھ روپے میں مبینہ فروخت کے انکشاف کے بعد تھرتھلی مچ گئی -سرکاری ریکارڈ کے مطابق قبل ازیں 35اصل لیز ہولڈرز دکانوں میں کام کررہے ہیں جبکہ 43نمبر دکان کی فروخت کے بعد 34اصل لیز ہولڈرز رہ گئے ہیں- 156میں سے 122دکانیں اربوں روپے کی فروخت کرکے لیز ہولڈرز نے اپنے معاہدے کی خلاف ورزی کی اور قانون کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں ۔ذرائع کے مطابق سی او یونٹ انتظامیہ نے 156دکانوں کا ریکارڈ ازسر نو ترتیب دینا شروع کردیا ہے جس میں شکمی کرائے داروں ،پھٹے والوں افراد سے بھتہ خوری ،ڈبل سٹوری ،تہہ خانوں کی تعمیر سمیت واجبات کی عدم ادائیگی کی تفصیلات اکھٹی کی جارہی ہیں ۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…