بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

سی پیک منصو بے کو حقیقت کا روپ دینے کیلئے انتہائی اہم کام کر نا ضر وری ہے

datetime 11  اگست‬‮  2016 |

کرامے ( آن لائن )پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا ہے کہ چین کی حکومت پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت شروع کیے جانیوالے منصوبوں پرعمل درآمدکی رفتار کو برقرار رکھے۔ سی پیک کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے ان منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے انتہائی توجہ کی ضرورت ہے۔ سی پیک منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے دونوں ممالک کے پرائیوٹ سیکٹر کو بھرپور طریقے سے شامل کیا جائے۔ اس منصوبے کے ذریعے دونوں ممالک کے پرائیوٹ سیکٹر کو قریب آنے کا موقع ملا ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر کی مشترکہ کوششوں کے بغیر سی پیک وژن کو عملی جامہ پہنانامشکل ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے چین کے شہر کرامے میں منعقدہ ’’سلک روڈ ایکنامک بیلٹ کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ سی پیک منصوبوں کے آغاز پر دونوں ممالک کے پرائیویٹ سیکٹر کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے لیکن ان مشکلات پر قابوپایا جاسکتا ہے۔ ماضی میں بھی پاکستان اور چین نے انتہائی مشکل منصوبوں کو حقیقت کا روپ دیا ہے قراقرم ہائی وے اس کی بہترین مثال ہے۔پاک چین اقتصادی راہداری منصوبوں کو بروقت مکمل کرنے کے لیے دونوں ممالک کی قیادت میں ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں شہری علاقوں کی ترقی کے لیے چینی کمپنیوں کا تجربہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، چینی فرمز شہروں کے انفرا اسٹرکچر میں سرمایہ کاری کا تجربہ رکھتی ہیں۔اس سے پاکستان کے شہروں میں سرمایہ کاری بڑھے گی چینی سرمایہ کار وں کے لیے پاکستان کے بڑے شہروں میں سرمایہ کاری کا بہترین موقع ہے۔ اس سرمایہ کاری سے پاکستان میں معاشی سسرگرمیوں میں اضافہ ہوگا کیونکہ شہر ہی معاشی ترقی کا مرکز ہیں، شہروں میں سرمایہ کاری کے بغیر معاشی ترقی کی رفتار نہیں بڑھائی جاسکتی۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ چینی کمپنیاں اپنے تجربے سے پاکستان کے شہروں کی حالت زار بہتر کرسکتی ہیں اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان بھی چینی کمپنیوں کے اس تجربے سے فائدہ اٹھائے۔ انہوں نے نیشنل پیپلزکانگریس کمیٹی فارن افیئرز کی نائب سربراہ ڈاکٹر ژاو بیگ کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے سی پیک پر عمل درآمد کے لیے کرامے فورم کا انعقاد کیا۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…