پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

چاول کا شعبہ بحران سے نکل رہا ہے،عاطف اکرام شیخ

datetime 14  دسمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے کہا ہے کہ سالانہ تقریباً سوا دو ارب ڈالر کی برآمدات کرنے والا چاول کا شعبہ بحران سے نکل رہا ہے۔
بین الاقوامی منڈی میں چاول کی قیمت کم رہنے کے بعد اب دوبارہ بڑھ رہی ہے جبکہ پاکستان کو مختلف ممالک سے ایکسپورٹ آرڈر بھی ملنا شروع ہو گئے ہیں جس سے پانچ ہزار رائس ملز اور لاکھوں کاشتکاروں کی مشکلات ختم ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ عاطف اکرام شیخ نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان دنیا میں چاول کا چوتھا بڑا برآمد کنندہ ہے جس سے لاکھوں افراد کا روزگار وابستہ جو مسائل سے دوچار رہا ہے۔اب بین الاقوامی منڈی میں طلب بڑھ رہی ہے جس سے چاول کی قیمت میں پچیس فیصد اضافہ ہوا ہے جو ایکسپورٹرز کے لیے منافع کا پیغام لایا ہے جنھوں نے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی کی وجہ سے سستا چاول خرید کر ذخیرہ کر لیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ برآمد کنندگان نے روایتی عالمی منڈی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے جاپان، جنوبی کوریا اور فلپائن میں مواقع تلاش کرنا شروع کر دیے تھے جہاں نہ صرف انہیں نئے آرڈر ملے ہیں بلکہ بھارتی ایکسپورٹر اپنے چاول کی کوالٹی کی وجہ سے پسپائی پر مجبور ہو گئے ہیں۔ پاکستان کے مسائل کی ایک وجہ بھارت کی جانب سے بین الاقوامی منڈی میں اپنے سستے چاول کامتعارف کروایا جانا تھا جو خوشبو سے عاری مگر سائز میں لمبا اور خفیہ سبسڈی کی وجہ سے قیمت میں سستا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بحران زدہ ملز کا مارک اپ معاف کیا جائے اور حکومت ان کی بحالی کی سنجیدہ کوششیں کرے جبکہ چاول کے کاشتکاروں کو بددلی سے بچانے کے لیے اقدامات کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…