پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

ودہولڈنگ ایجنٹس کوسروس چارجز دینے کی مخالفت

datetime 29  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ودہولڈنگ ایجنٹس کو ٹیکس دہندگان سے ٹیکس کٹوتی کرکے قومی خزانے میں جمع کرانے پر سروس چارجز فراہم کرنے کی تجویزکی مخالفت کردی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ ٹیکس اصلاحات کمیشن (ٹی آرسی) کی جانب سے تجویز دی گئی ہے کہ ودہولڈنگ ایجنٹس کو کٹوتی کی جانے والی ٹیکس رقم کی مخصوص شرح بطور زرتلافی فراہم کرنے کا اعلان کیا جائے، اس سے ودہولڈنگ ٹیکس ایجنٹس کی حوصلہ افزائی ہوگی اور سرکاری و نیم سرکاری اور نجی سطح پر ودہولڈنگ ٹیکس ایجنٹس کسی بھی قسم کی بلوں کی ادائیگی پر سپلائرز سے کی جانے والی ودہولڈنگ ٹیکس کٹوتی کی رقوم بروقت قومی خزانے میں جمع کرائیں گے، اس سے ان ودہولڈنگ ایجنٹس کو بھی فائد ہوگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری و نیم سرکاری ادارے اور نجی ادارے و کمپنیاں اشیا و خدمات کی سپلائی پر ٹیکس کا مخصوصی حصہ ودہولڈ کرکے ٹیکس دہندہ کے ایما پر ایف بی ا?رکو جمع کراتے ہیں اور باقی ٹیکس واجبات ٹیکس دہندہ کو اپنی ٹیکس ریٹرن کے ساتھ جمع کرانا ہوتے ہیں جس میں ودہولڈ کی جانے والی ٹیکس کی رقم بھی ایڈجسٹ ہو جاتی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایف بی ا?ر کو موصول ہونے والی رپورٹس میں بہت سے کیس سامنے آئے ہیں جن میں ودہولڈنگ ایجنٹس کی جانب سے ٹیکس دہندہ سے کٹوتی کردہ رقم قومی خزانے میں بروقت جمع نہیں کرائی جاتی جس سے ٹیکس ریونیو متاثر ہوتا ہے۔
اسی طرح بہت سے کیس ایسے بھی ہیں جہاں ود ہولڈنگ ایجنٹس کی جانب سے ٹیکس دہندہ سے کی جانے والی ٹیکس کٹوتی کی رقم جمع کرا دی جاتی ہے مگر ٹیکس دہندہ کی جانب سے اپنے گوشواروں میں اسے ظاہر نہیں کیا گیا ہوتا اور نہ ہی بقایا واجبات جمع کرائے گئے ہوتے ہیں مگر ان کیسوں کی نشاندہی اور تحقیقات آڈٹ میں ہوتی ہے جس میں ریکارڈ کی چھان بین کی جاتی ہے مگر اس سارے پراسیس میں ریونیو متاثر ہوتا ہے اور مقدمہ بازی بڑھ جاتی ہے کیونکہ جب ٹیکس اتھارٹیز کی جانب سے ٹیکس ڈیمانڈ ریز کی جاتی ہے تو بہت سے لوگ مقدمہ بازی میں چلے جاتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ تجویز کا مقصد بھی یہی تھا کہ ریونیو بروقت قومی خزانے میں جمع ہو اور مقدمے بازی میں کمی ہو تاہم ایف بی آر نے اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا اور ٹیکس اصلاحات کمیشن کو اس تجویز کے ماننے سے پیدا ہونے والے نئے مسائل کے بارے میں آگاہ کیا۔ اس بارے میں دستیاب دستاویز میں بتایا گیاکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ٹیکس اصلاحات کمیشن کی اس تجویزکی حمایت نہیں کی اور اسے موخر کردیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…