جمعہ‬‮ ، 26 جون‬‮ 2026 

بلند پیداواری لاگت ، ٹاول سیکٹر کیلیے بھی خطرے کی گھنٹی بج گئی

datetime 25  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک ) ملک میں جاری توانائی بحران، بلند پیداواری لاگت اور ایف بی آر سے متعلق مسائل کے باعث ٹاول سیکٹرکے لیے بھی خطرے کی گھنٹی بج گئی، اکتوبر میں برا?مد میں کمی کے بعد نومبر اور دسمبر2015 میں پاکستانی ٹاول مصنوعات کی برآمدات میں20 تا25 فیصد کمی کا خدشہ ہے۔
تاہم مسائل کے باوجود جولائی تااکتوبر کے دوران ٹاول سیکٹر کی برآمدات 4.17 فیصد کے اضافے سے 26 کروڑ78 لاکھ45 ہزار ڈالر رہیں جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 25 کروڑ71 لاکھ33 ہزارڈالرتھیں تاہم اکتوبر2015 میں ٹاول کی برآمدات 18فیصد کمی سے 5 کروڑ90 لاکھ25 ہزار ڈالر رہیں جو اکتوبر2014 میں 7 کروڑ21 لاکھ40 ہزار ڈالر تھیں۔
اس ضمن میں ٹاول مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین فرخ مقبول نے بتایا کہ دیگر برآمدی شعبوں کی طرح ٹاول انڈسٹری بھی ان گنت مسائل سے دوچار ہے جبکہ حکومت نے ان مسائل کو حل کرنے میں دلچسپی لینے کے بجائے صرف اور صرف ریونیوکا حجم بڑھانے کی پالیسی اختیار کی ہوئی ہے تاکہ مستقبل میں بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے مزید قرضوں کا حصول آسان ہو سکے۔
بھارتی حکومت کی ترغیبات کے بل بوتے پر انڈین ٹاول ایکسپورٹرز امریکی و یورپی مارکیٹس میں اپنی ٹاول مصنوعات کی قیمتیں آئے دن کمی کررہے ہیں جس کی وجہ سے امریکی ویورپی خریدار پاکستان کے مقابلے میں بھارت سے ٹاول پروڈکٹس کی درآمدات کو ترجیح دے رہے ہیں اور پاکستانی ٹاول ایکسپورٹرز اس صورتحال میں بے یارومددگار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پالیسی ساز ہاتھوں پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں جبکہ برآمدی انڈسٹری اپنی مصنوعات کی مارکیٹنگ، معیار کو بلند کرنے، صنعتوں کی توسیع اور پیداواری عمل کو جاری رکھنے کے بجائے صرف اور صرف ایف بی آر اور اسکے ماتحت محکموں کی ڈیمانڈ پرمتعلقہ دستاویز تیار کرنے میں مصروف عمل ہے۔
فرخ مقبول نے کہا کہ اگر توانائی بحران پر قابو نہ پایا گیا اور یوٹیلٹی ٹیرف کو قابل قبول سطح پر نہ لایا گیا تو ملکی برآمدات بڑھنے کے بجائے اتارچڑھاو¿ کا ہی شکار رہیں گی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایف بی آر سمیت دیگر سرکاری اداروں کو برآمدکنندگان پر حکمرانی کے بجائے سہولتیں پہنچانے والے ادارے بنانے کی پالیسی مرتب کرے بصورت دیگر برآمدی صنعتیں بندش کا شکار ہوں گی اورصنعت کاری کا عمل مکمل بند ہوجائیگا۔
فرخ مقبول نے حکومت پر زور دیا کہ وہ برآمدکنندگان کیلیے صنعتکاری کا مناسب ماحول فراہم کرنے میں معاونت کرے تاکہ وہ یکسوئی کے ساتھ پیداواری عمل جاری اور برآمدات میں اضافے کی کوششیں کرسکیں۔ انہوں نے بتایا کہ ٹاول سیکٹر کے کروڑوں روپے مالیت کے ریفنڈز زیرالتوا ہیں جن کا تصفیہ اب ضروری ہوگیا ہے جبکہ یورپی یونین کے جی ایس پی پلس اسٹیٹس سے مکمل فائدہ اٹھانے کیلیے حکومت بہتر ماحول فراہم کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اواتار مائونٹین


اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…