پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

بلند پیداواری لاگت ، ٹاول سیکٹر کیلیے بھی خطرے کی گھنٹی بج گئی

datetime 25  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک ) ملک میں جاری توانائی بحران، بلند پیداواری لاگت اور ایف بی آر سے متعلق مسائل کے باعث ٹاول سیکٹرکے لیے بھی خطرے کی گھنٹی بج گئی، اکتوبر میں برا?مد میں کمی کے بعد نومبر اور دسمبر2015 میں پاکستانی ٹاول مصنوعات کی برآمدات میں20 تا25 فیصد کمی کا خدشہ ہے۔
تاہم مسائل کے باوجود جولائی تااکتوبر کے دوران ٹاول سیکٹر کی برآمدات 4.17 فیصد کے اضافے سے 26 کروڑ78 لاکھ45 ہزار ڈالر رہیں جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 25 کروڑ71 لاکھ33 ہزارڈالرتھیں تاہم اکتوبر2015 میں ٹاول کی برآمدات 18فیصد کمی سے 5 کروڑ90 لاکھ25 ہزار ڈالر رہیں جو اکتوبر2014 میں 7 کروڑ21 لاکھ40 ہزار ڈالر تھیں۔
اس ضمن میں ٹاول مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین فرخ مقبول نے بتایا کہ دیگر برآمدی شعبوں کی طرح ٹاول انڈسٹری بھی ان گنت مسائل سے دوچار ہے جبکہ حکومت نے ان مسائل کو حل کرنے میں دلچسپی لینے کے بجائے صرف اور صرف ریونیوکا حجم بڑھانے کی پالیسی اختیار کی ہوئی ہے تاکہ مستقبل میں بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے مزید قرضوں کا حصول آسان ہو سکے۔
بھارتی حکومت کی ترغیبات کے بل بوتے پر انڈین ٹاول ایکسپورٹرز امریکی و یورپی مارکیٹس میں اپنی ٹاول مصنوعات کی قیمتیں آئے دن کمی کررہے ہیں جس کی وجہ سے امریکی ویورپی خریدار پاکستان کے مقابلے میں بھارت سے ٹاول پروڈکٹس کی درآمدات کو ترجیح دے رہے ہیں اور پاکستانی ٹاول ایکسپورٹرز اس صورتحال میں بے یارومددگار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پالیسی ساز ہاتھوں پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں جبکہ برآمدی انڈسٹری اپنی مصنوعات کی مارکیٹنگ، معیار کو بلند کرنے، صنعتوں کی توسیع اور پیداواری عمل کو جاری رکھنے کے بجائے صرف اور صرف ایف بی آر اور اسکے ماتحت محکموں کی ڈیمانڈ پرمتعلقہ دستاویز تیار کرنے میں مصروف عمل ہے۔
فرخ مقبول نے کہا کہ اگر توانائی بحران پر قابو نہ پایا گیا اور یوٹیلٹی ٹیرف کو قابل قبول سطح پر نہ لایا گیا تو ملکی برآمدات بڑھنے کے بجائے اتارچڑھاو¿ کا ہی شکار رہیں گی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایف بی آر سمیت دیگر سرکاری اداروں کو برآمدکنندگان پر حکمرانی کے بجائے سہولتیں پہنچانے والے ادارے بنانے کی پالیسی مرتب کرے بصورت دیگر برآمدی صنعتیں بندش کا شکار ہوں گی اورصنعت کاری کا عمل مکمل بند ہوجائیگا۔
فرخ مقبول نے حکومت پر زور دیا کہ وہ برآمدکنندگان کیلیے صنعتکاری کا مناسب ماحول فراہم کرنے میں معاونت کرے تاکہ وہ یکسوئی کے ساتھ پیداواری عمل جاری اور برآمدات میں اضافے کی کوششیں کرسکیں۔ انہوں نے بتایا کہ ٹاول سیکٹر کے کروڑوں روپے مالیت کے ریفنڈز زیرالتوا ہیں جن کا تصفیہ اب ضروری ہوگیا ہے جبکہ یورپی یونین کے جی ایس پی پلس اسٹیٹس سے مکمل فائدہ اٹھانے کیلیے حکومت بہتر ماحول فراہم کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…