جمعہ‬‮ ، 26 جون‬‮ 2026 

ایرانی سیمنٹ کی درآمد پاکستانی کوالٹی سرٹیفکیشن سے مشروط کرنے کا مطالبہ

datetime 21  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک ) آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررزایسوسی ایشن (اے پی سی ایم اے) نے وزارت تجارت سے ایرانی سیمنٹ کی زمینی راستے سے درآمد معطل کرکے اس کی بحالی پی ایس کیوسی اے کی سرٹیفکیشن سے مشروط کی جائے۔وفاقی سیکریٹری تجارت محمد شہزاد کے نام خط میں آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررزایسوسی ایشن (اے پی سی ایم اے) کے چیئرمین محمد علی ٹبا نے کہاکہ کسٹم حکام کے نوٹس میں لانے کے باوجود پاکستان میں زمینی راستے سے ایرانی سیمنٹ کی اسمگلنگ بلاتعطل جاری ہے، مزید برآں ایرانی سیمنٹ کا معیار پی ایس کیو سی اے کی جانب سے متعین کردہ معیار کے مطابق ٹیسٹ نہ ہونے کے باعث مشکوک ہے۔اسمگل شدہ سیمنٹ کا حجم دھیرے دھیر ے بڑھتے ہوئے خطرناک حد کو چھو چکا ہے اور روزانہ تقریباً 2ہزار ٹن ایرانی سیمنٹ پاکستان پہنچ رہی ہے، تفتان پوسٹ اور مند کسٹمز چیک پوسٹ کے ذریعے آنے والی سیمنٹ کی کھیپوں کو کسٹم حکام کی ملی بھگت سے قانونی کسٹم ڈیوٹی اور دیگر وفاقی لیویز کی ادائیگی کے بغیر آنے کی اجازت دی جا رہی ہے جو ٹوکن کے طور پر محدود مقدار پر یہ ڈیوٹیاں چارج کرتے ہیں جبکہ سیمنٹ کی بھاری مقدار قانونی اخراجات کی ادائیگی کے بغیر ہی جانے دی جاتی ہے۔خط میں کہا گیاکہ اس صورت حال کے نتیجے میں ایرانی سرحد سے منسلک علاقوں کی مقامی منڈیوں میں اور اس کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں سستی ایرانی سیمنٹ کا سیلاب امڈ آیا ہے،نتیجتاً مقامی طور پر تیار کردہ سیمنٹ بڑی تیزی سے اپنی منڈی کھو رہی ہے اور ایرانی سیمنٹ کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں جو مقامی سیمنٹ کی نسبت 40 فیصد کم قیمت پر فروخت ہو رہی ہے۔ یہاں یہ ذکر بے جا نہ ہوگا کہ صنعت پہلے ہی پیداواری لاگت کی وجہ سے سنگین صورتحال سے دوچار ہے اور اب ایرانی سیمنٹ کی پاکستانی منڈی میں بھرمار نے مقامی مینوفیکچررز کے مسائل میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔محمد علی ٹبا نے کہا کہ سیمنٹ کی مقامی صنعت کو جو بالواسطہ اور بلاواسطہ 5 لاکھ خاندانوں کو روزگار فراہم کر رہی ہے، ایرانی سیمنٹ کے مقابلے میں تحفظ دینے کی ضرورت ہے تاکہ نہ صرف اس صنعت سے منسلک لاکھوں افراد پر مشتمل افرادی قوت کی ملازمتوں کو تحفظ حاصل ہو سکے بلکہ قیمتی زر مبادلہ کی بچت بھی ممکن ہو سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اواتار مائونٹین


اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…