پیر‬‮ ، 09 فروری‬‮ 2026 

وزارت خزانہ پہلی سہ ماہی میں مالی خسارے پربمشکل قابو پا سکی ؛ آئی پی آر کا حقائق نامہ

datetime 20  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

لاہور(نیوز ڈیسک ) تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی ریفارمز نے بجٹ 2015-16 کی پہلی سہ ماہی پر ایک حقائق نامہ جاری کیا ہے جس کے مطابق تسلسل سے جاری کچھ مسائل کی موجودگی کی وجہ سے اور وزارت خزانہ کی طرف سے مالی خسارے کو کنٹرول میں لانے کیلیے پہلی سہ ماہی کے نتائج کچھ حوصلہ ا فزا نہیں۔ پہلی سہ ماہی کیلیے مالی خسارے کا ہدف جو آئی ایم ایف کے ساتھ اتفاق سے طے کیا گیا تھا306 ارب روپے کا تھا لہذا یہ بہت کم یعنی 22 ارب روپے کی رقم سے تجاوز کر سکا لیکن اس کے باوجود مالی خسارے کو بڑی مشکل سے قابو کیا گیا۔
حقائق نامہ کے مطابق ٹیکسوں کی وصولی مقررہ ہدف سے 16ارب روپے کم رہی اگرچہ پچھلے سال اس دورانیے کی نسبت ٹیکسوں کی وصولی بہترہے۔ جہاں تک دفاعی اخراجات کا تعلق ہے آئی پی آرکی فیکٹ شیٹ کے مطابق یہ خدشہ تھا کہ یہ اخراجات آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے بڑھ جائیں گے۔ لیکن پہلی سہ ماہی میں ان میں11 فیصد تک کمی ہوئی، اس طرح تقریباً 39 ارب روپے کی بچت ہوئی۔ اس کے علاوہ صوبوں کو رقوم کی تقسیم کے طے شدہ منصوبوں اور آمدن کی بنیاد پر براہ راست منتقلی کو بھی جزوی طور پر روک دیا گیا ہے۔
صوبوں کو پہلی سہ ماہی میں 367ارب روپے منتقل ہونا تھے جو کہ 289ارب تک محدود کر دیے گئے۔اس طرح وفاقی حکومت صوبوں کے اخراجات کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن مجموعی طور پر صوبائی حکومتوں کو رقوم کی منتقلی اور دفاعی اخراجات کیلیے کسی قسم کی پابندی نہیں لگائی گئی۔ پہلی سہ ماہی کیلیے ما لیات خسارہ 117ارب روپے سے زیادہ ہو سکتا تھا ،ماضی کے تجربات کی بنیاد پر پہلی سہ ماہی کا خسارہ سالانہ خسارے کاتقریباً 22فیصد بنتا ہے لہٰذا اس بنیاد پر مالی سال 2015-16کے خسارے کو مد نظر رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو یہ جی ڈی پی کا 4.3 فیصد سے زیادہ ہو سکتا ہے۔
آئی پی آر کے حقائق نامہ میں کچھ اور مسائل کا ذکر بھی کیا گیا جس کے مطابق شرح سود میں کمی کے باوجود کوئی زیادہ سرمایہ کاری نہیں ہو رہی، اسکے علاوہ خسارے کی فنانسنگ کے طریقہ کار بھی 2014-15سے بہت مختلف ہے، نیز بیرونی قرضوں میں 69ارب روپے کا اضافہ ہو ا جو کہ مہنگے یورو بانڈ کی وجہ سے ہے۔ نان بینکنگ ذرائع نے بہت کم کار کردگی دکھائی ہے۔ حقائق نامہ کے ا?خر میں تھنک ٹینک ا?ئی پی ا?ر نے حکومت کی کچھ کامیابیوں کا ذکر بھی کیا جس کے مطابق فیڈرل بورڈ ا?ف ریونیو کی ا?مدنی میں 12 فیصد اضافہ ہو ا، انکم ٹیکس کی ا?مدنی میں 26 فیصد سے زائد کا اضافہ حکومت کی اچھی کار کردگی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بٹرفلائی افیکٹ


وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…