پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

ٓئی ایف سی نے بینک لین دین ٹیکس سے چھوٹ مانگ لی

datetime 19  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) ورلڈبینک گروپ ممبر بین الاقوامی مالیاتی کارپوریشن(آئی ایف سی) نے حکومت کی جانب سے آئی ایف سی کی بینکنگ ٹرانزیکشن پر عائد کردہ ودہولڈنگ ٹیکس اور کیپٹل گین ٹیکس کو معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے دونوں ٹیکسوں سے چھوٹ مانگ لی۔”ایکسپریس“ کو دستیاب دستاویز کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی کارپوریشن نے وزیر خزانہ اسحق ڈار کو خط لکھاہے کہ حکومت کی جانب سے فنانس بل کے ذریعے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 میں کی جانے والی ترامیم کے تحت آئی ایف سی کی بینکنگ ٹرانزیکشن پر بھی ٹیکس عائد ہوگیا ہے۔خط میں کہاگیاکہ فنانس ایکٹ 2015 کے تحت انکم ٹیکس آرڈیننس 2001میں شامل کی جانے والی شق 236 پی اور شق 100بی کے تحت آئی ایف سی کی بینکنگ ٹرانزیکشن پر ود ہولڈنگ ٹیکس لاگو ہے اور دوسری شق کے تحت آئی ایف سی کے کیپٹل گین پر کیپٹل گین ٹیکس عائد ہے جو بین الاقوامی مالیاتی کارپوریشن ایکٹ 1956 کے تحت تمام ممبر ممالک کے ساتھ طے پانے والے آرٹیکل آف ایگریمنٹ کی خلاف ورزی ہے کیونکہ آرٹیکل آف ایگریمنٹ کے تحت آئی ایف سی کوتمام ممبر ممالک سے ڈیوٹی اور ٹیکسوں چھوٹ حاصل ہے جو پاکستان کی جانب سے بھی حاصل رہی ہے مگر فنانس ایکٹ 2015 کے تحت انکم ٹیکس میں متعارف کرائی جانے والی شقوں کے ذریعے اب آئی ایف سی پر بھی ود ہولڈنگ ٹیکس اور کیپٹل گین ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔جس سے آئی ایف سی کی پاکستان میں ایکویٹی انویسٹمنٹ بری طرح متاثر ہوگی۔ خط میں لکھا گیا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی کارپوریشن پاکستان کی طویل مدتی ڈیولپمنٹ پارٹنر ہے اور انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کی جانب سے پاکستان میں مجموعی طور پر 5 ارب 60 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی جاچکی ہے، انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن پاکستان کو براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری فراہم کرنے والا سب سے بڑا ادارہ ہے اور 2014-15 میں انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن نے پاکستان کے لیے 1ارب 20کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے اور وعدے کیے جوریکارڈ ہے۔خط میں بتایا گیاکہ پاکستان کے توانائی کے نجی شعبے میں ڈیولپمنٹ کے حوالے سے بھی انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کا کلیدی کردار ہے اور آئی ایف سی حکومت پاکستان کی نئی پاور جنریشن پالیسی کے تحت ملک میں 4 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کے لیے تعاون کررہی ہے لیکن فنانس ایکٹ کے ذریعے ترامیم کے تحت حکومت پاکستان کی جانب سے نان فائلرز کیلیے بینکنگ ٹرانزیکشن پر ود ہولڈنگ ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔اسی طرح دوسری ترمیم کے ذریعے شیئرز کی فروخت پر کیپٹل گین ٹیکس عائد ہے جبکہ آرٹیکل آف ایگریمنٹ کے تحت آئی ایف سی کو ڈیوٹی اور ٹیکسوں سے چھوٹ حاصل ہے مگر ان ترامیم کے ذریعے ان دونوں ٹیکسوں کا اطلاق آئی ایف سی پر ہوگیا ہے لہٰذا وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار سے درخواست ہے کہ وہ خود ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے مداخلت کرکے معاملے کو حل کرائیں اور دونوں ٹیکسوں سے چھوٹ کیلیے انکم ٹیکس آرڈیننس میںترامیم کی جائیں تاکہ آئی ایف سی انویسٹمنٹ پروگرام پر پیشرفت کرنے کے قابل ہو سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…