پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

پیٹ بوتل پریورپی ڈیوٹی ہٹانے کے باوجود پاکستان کیس لڑے گا

datetime 18  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) وفاقی وزیر تجارت خرم دستگیرکی ہدایت پر وزارت تجارت نے یورپی یونین کی طرف سے پیٹ بوتل پر عائد ڈیوٹی ہٹانے کے باوجود ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں کیس جاری رکھنے کا فیصلہ کر لیا، ڈبلیو ٹی او میں پاکستان کے مستقل مندوب ڈاکٹر توقیر شاہ نے متعلقہ کمیٹی کے چیئرمین ولیم ڈیوی کو خط بھی لکھ دیا ہے۔
جس میں پاکستان کی طرف سے پیٹ پلاسٹک پر یورپی یونین کی عائد کاو¿نٹر ویلنگ ڈیوٹی کے کیس کو جاری رکھنے کی استدعاکی گئی ہے تاکہ مستقبل میں اس قسم کی ڈیوٹی سے بچا جا سکے، پاکستان یورپی یونین کے ڈیوٹی عائد کرنے کے میکنزم کے خلاف ڈبلیو ٹی او میں اپنے دلائل پیش کرے گا۔
یاد رہے کہ پیٹ پلاسٹک پر یہ ڈیوٹی 30ستمبر 2010 کو نافذ کی گئی تھی جو پاکستان کے ڈبلیو ٹی او میں تصفیے کے لیے جانے کے بعد اس سال ستمبر میں ہٹا لی گئی تھی، یہ ڈیوٹی پاکستانی کمپنیوں پر 44.02 یورو فی ٹن، اماراتی کمپنیوں پر 42.34 یورو اور ایرانی کمپنیوں پر 139.70 یورو فی ٹن کے حساب سے عائد کی گئی تھی، ڈیوٹی ہٹانے کیلیے متعدد کوششوں کے بعد پاکستان نے ڈیوٹی کو ڈبلیو ٹی او میں چیلنج کردیا اور 25 مارچ 2015کو ڈبلیو ٹی او نے پاکستانی درخواست پر تصفیے کے لیے پینل تشکیل دیا، پینل کے ابتدائی ریویو کے بعد یورپی یونین نے اس سال ستمبر میں یہ ڈیوٹی ہٹا لی۔
وفاقی وزیر تجارت کی ہدایت پر وزارت تجارت نے ڈبلیو ٹی او میں یہ کیس جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ایسے معاملات کیلیے اصول اور قاعدے طے کیے جا سکیں اور پاکستانی بزنس کمیونٹی کیلیے ڈبلیو ٹی او کے قوانین کے تحت جاری کی گئی اسکیموں کو چیلنج نہ کیا جاسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…