پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

پاکستان میں ایکٹوموبائل سمزکی تعداد 11کروڑ 64لاکھ ہے

datetime 7  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک) سینٹ کو وقفہ سوالات میں حکومت نے بتایا کہ اس وقت پورے ملک میں ایکٹو موبائل سموں کی تعداد 11 کروڑ 64 لاکھ 31 ہزار 523 ہے پانچ موبائل کمپنیاں یہ سروس دے رہی ہیں۔ پی ٹی اے کو وزیراعظم کی منظوری سے انٹر نیٹ پر قابل اعتراض مواد بلاک کرنے کو کہا گیا ہے۔ڈپٹی چیئرمین عبدالغفور حیدری کی زیرصدارت اجلاس میں سینیٹر نہال ہاشمی کے سوال کے جواب میں وزیر مملکت انوشہ رحمن نے بتایا کہ یہ اعداد و شمار 31 جولائی 2015ء تک کا ہے ان کے دوسرے سوال کے جواب میں شیخ آفتاب نے بتایا کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کو قانونی مدد کیلئے ایک کروڑساڑھے 64لاکھ روپے ادا کئے گئے۔ وزیر تجارت خرم دستگیر نے عثمان کاکڑ، طلحہ محمود، جہانزیب جمالدینی کے سوالات کے جواب میں بتایا کہ 5 سال کے دوران بیرون ملک مشنوں میں بلوچستان کے 3،خیبر پختونخوا کے 7 اور سندھ کے 11 افراد کو کمرشل قونصلرز تعینات کیا گیا ہے۔ طلحہ محمود، عثمان کاکڑ، نعمان وزیر کے سوال کے جواب میں انوشہ رحمن نے کہا کہ اگلے ڈیڑھ سے دو سال میں تھری جی سروسز دیہات میں بھی پہنچ جائیں گی۔ یو ایس ایف فنڈ سے گردشی قرضے ادا کرنے کی خبروں میں حقیقت نہیں۔ عثمان کاکڑ کے سوال کے جواب میں انوشہ رحمن نے بتایا کہ 3 سال میں این آئی ٹی بی میں کوئی تقرری نہیں کی گئی۔ ثمینہ عابد کے سوال پر وزیر مملکت عثمان ابراہیم نے بتایا کہ پمز میں ادویات فراہم کی جاتی ہیں ایک کینسرہسپتال بھی پمز کے اندر بنایا جا رہا ہے جس کے لئے وزیراعظم نے 500 ملین روپے مختص کر دیئے ہیں۔ نہال ہاشمی کے سوال پر بتایا گیا کہ ایئرپورٹ منیجر کے عہدے کیلئے کم سے کم تعلیمی قابلیت گریجویٹ ڈگری اور 5 سال کا تجربہ ہے۔ سراج الحق کے سوال پر عثمان ابراہیم نے بتایا کہ اسلام آباد کے تمام اسکولوں اور ماڈل کالجز میں پریپ سے میٹرک تک کتابیں فیڈرل ڈائریکٹوریٹ مفت فراہم کرتا ہے۔طاہر مشہدی کے سوال کے جواب میں عثمان ابراہیم نے بتایا کہ دو سال میں پمز میں 240 ڈینگی کے کیسز سامنے آئے پولی کلینک میں تعداد 55 تھی۔ راحیلہ مگسی کے سوال پر انوشہ رحمن نے بتایا کہ پی ٹی اے کو وزیراعظم کی منظوری سے انٹرنیٹ پر قابل اعتراض مواد بلاک کرنے کو کہا گیا ہے۔ داؤد اچکزئی کے سوال پر خرم دستگیرنے بتایا کہ افغانستان تجارت کا انحصار پاکستان پر کرتا ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…