پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

روپے کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری

datetime 5  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)ڈالر کو روپے پر ہمیشہ برتری حاصل رہی ہے۔ اب ایک مرتبہ پھر روپے کی قدر میں بتدریج کمی کا سلسلہ جاری ہے۔گزشتہ روز اوپن کرنسی مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قیمت 106روپے سے تجاوز کرتی نظر آئی۔کرنسی ڈیلر ڈالر کی قیمت میں اضافے اور روپے کی قدر میں کمی کا ذمہ دار حکومت کو قرار دے رہے ہیں۔آئی ایم ایف اور ایکسپورٹر کا دباو بھی روپے کی قدر میں کمی کی وجہ قرار دیا جارہا ہے۔روپے کی قدر میں کمی اور ڈالر میں اضافے کا رحجان رواں برس اگست کے آخری ہفتے سے شروع ہواجب ڈالرایک سوچار اعشاریہ دو پانچ پردوبارہ پہنچا۔ایک کرنسی ڈیلر کے مطابق رواں برس اگست کے مہینے میں ڈالر کی قدر کو کنٹرول کیا گیا تھا اور اسے ایک سوچار اعشاریہ50پیسے سے زیادہ نہیں ہونے دیا گیا تھا۔تاہم ڈالر کی قدر میں تازہ اضافہ کسی بلند سطح پر جاتا نظر آرہا ہے۔رواں برس جون میں ڈالر اوپن مارکیٹ میں ایک سو ایک اعشاریہ سات چھ سے ایک سو ایک اعشاریہ آٹھ ایک تک خریدا اور بیچا گیا۔روپے کی قدر میں کمی بیرونی قرضوں میں اضافے کا بھی سبب ہے۔عام آدمی کیلئے اہم بات یہ ہے کہ روپے میں کمی کا مطلب مزید مہنگائی ہے۔ماہرین کہتے ہیں کہ روپے کی قدر میں بہتری غیرملکی سرمایہ کاری میں اضافے ،ترسیلات زر میں بہتری اور برآمدات کے بڑھانے سے ہی لائی جاسکتی ہے۔پاکستان میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اتنی کمی کسی ایک دن یا کوئی ایک حکومت کے دور میں نہیں ہوئی بلکہ اس میں گزشتہ تمام حکومتوں کی پالیسی کا عمل دخل رہا ہے جن کی وجوہات میں غیرمستحکم اقتدار ،ناقص معاشی پالیسی اور بے جا اصراف جیسے مسائل شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…