جمعہ‬‮ ، 27 مارچ‬‮ 2026 

امریکہ سے پاکستان کو کوئی تجارتی مراعات نہیں دی گئیں، خرم دستگیر

datetime 20  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)وفاقی وزیر برائے تجارت خرم دستگیر نے کہاہے کہ اگرچہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں حالیہ برسوں میں بہتری آئی ہے لیکن تجارت اور سرمایہ میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکا،جب سے ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتحادی بنے ہیں کوئی قابل ذکر تجارتی مراعات امریکہ کی طرف سے نہیں دی گئیں،پاکستان امریکہ کا اہم اتحادی ہے، اسے امریکی منڈی تک جو رسائی ملنی چاہئے وہ اب تک نہیں مل سکی،وزیراعظم اپنے دورے میں امریکی صدر سے اس پر ضرور بات کریں گے۔ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ دیگر اہم ا ±مور پر بات چیت کے علاوہ پاکستان کی یہ خواہش ہو گی کہ ا ±س کی مصنوعات کو امریکی منڈیوں تک زیادہ رسائی حاصل ہو سکے۔پاکستان امریکہ کا اہم اتحادی ہے اور جس قسم کی امریکی منڈی تک ا ±سے رسائی ملنی چاہئے وہ پاکستان کو نہیں مل سکی اور اس معاملے میں دونوں معیشتوں میں ایک بہت بڑا فرق بھی ہے۔ امریکہ دنیا کی ایک بڑی معیشت ہے اور پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے اس لحاظ سے بھی پاکستان کو جو رسائی ملنی چاہئے تھی وہ ابھی تک حاصل نہیں ہو سکی، تو وزیر اعظم کا پورا فوکس تجارتی تعلقات اور پاکستان کی مصنوعات خاص طور پر ٹیکسٹائلز کی جو امریکی منڈی تک رسائی ہے اس کو بہتر بنانے کے لیے وہ ضرور گفتگو کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں حالیہ برسوں میں بہتری آئی ہے لیکن تجارت اور سرمایہ میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکا۔ پچھلے 11 سالوں سے بلکہ کچھ زیادہ عرصہ ہو گیا ہے کہ جب سے ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتحادی بنے ہیں کوئی قابل ذکر تجارتی مراعات امریکہ کی طرف سے نہیں دی گئیں۔ پاکستان پہلے سے امریکہ کے جی ایس پی کا حصہ ہے بہت سال یہ معطل رہا ہے اور چند ماہ پہلے ہی یہ بحال ہوا ہے۔وزیر تجارت خرم دستگیر کا بھی ماننا ہے کہ اس دورے میں افغانستان کی صورت حال سمیت علاقائی معاملات بات چیت کے لیے اہم ا ±مور رہیں گے۔اس میں بہت بڑا حصہ، اس دورے کا جو وزیر اعظم نواز شریف واشنگٹن کا کر رہے ہیں۔ افغانستان کی جو صورت حال ہے اس سے متعلق ہو گا اور اس کے ساتھ ہی پاکستان اور بھارت کے درمیان جو تناو ¿ ہے اس کے اوپر بھی گفتگو ہو گی، کشمیر پر گفتگو ہو گی تو محور تو زیادہ اس میں سلامتی اور خارجہ پالیسی کے مسئلوں پر ہے۔ لیکن بہرحال وزیر اعظم کی مختصر گفتگو کا ایک اہم حصہ جو ہے وہ امریکہ اور پاکستان کے تجارتی تعلقات میں بہتری ہے۔واضح رہے کہ رواں ماہ ہی امریکہ کے صدر براک اوباما نے افغانستان سے اپنی افواج کے انخلاءسے متعلق ترمیم شدہ منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ 2016 میں بھی امریکی فوجیوں کی موجودہ تعداد یعنی 9,800 اہلکار افغانستان میں تعینات رہیں گے اور 2017 میں جب وہ اقتدار چھوڑ رہے ہوں گے تو ا ±س وقت بھی لگ بھگ 5,500 فوجی افغانستان میں ہوں گے۔صدر اوباما کا کہنا تھا کہ وہ افغانستان میں امن و مصالحت سے متعلق معاملات پر بھی وزیراعظم نواز شریف سے بات چیت کریں گے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کی امریکہ روانگی سے قبل ذرائع ابلاغ میں ایسی خبریں سامنے آئیں کہ اس دورے کے دوران امریکہ کے صدر براک اوباما پاکستان کے جوہری اثاثوں کے تحفظ پر زور دیں گے۔واضح رہے کہ موجودہ دور اقتدار میں وزیراعظم نواز شریف کا یہ امریکہ کا دوسرا سرکاری دو طرفہ دورہ ہے، اس سے قبل انہوں نے اکتوبر 2013ءمیں پہلا دورہ کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ہیکل سلیمانی


اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…