جمعرات‬‮ ، 12 فروری‬‮ 2026 

ایکسچینج کمپنیوں کو اجا زت مل گئی

datetime 4  جون‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایکس چینج کمپنیوں کے کاروبار کا دائرہ وسیع کرنے کی غرض سے ’اے‘ کیٹیگری والی ایکس چینج کمپنیوں کو واپڈا، کے الیکٹرک، پی ٹی سی ایل، سوئی سدرن گیس کمپنی وغیرہ جیسے یوٹیلٹی اداروں کے ساتھ ایسے معاہدوں کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
جن کے تحت یہ ایکس چینج کمپنیاں ان اداروں کی طرف سے پاکستانی روپے میں یوٹیلٹی بل وصول کر سکیں گی، یوٹیلٹی ادارے اور ایکس چینج کمپنی کے درمیان حتمی معاہدے کی ایک نقل برائے اطلاع ڈائریکٹر، ایکس چینج پالیسی ڈپارٹمنٹ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کراچی کو ارسال کرنے کی ذمے داری متعلقہ ایکس چینج کمپنی کی ہو گی، ایکس چینج کمپنیوں کو اپنی برانچوں میں اسٹیٹ بینک کی پیشگی اجازت کے بغیر متعلقہ بینک اور ایکس چینج کمپنی کے درمیان طے پانے والی شرائط و ضوابط کے مطابق پاکستانی روپے کے بینک اے ٹی ایم نصب کرنے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔
فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک محمد بوستان نے اسیٹٹ بینک کی جانب سے ”اے“ کیٹگری کی ایکس چینج کمپنیوں کواے ٹی ایم کی تنصیب اور تمام یوٹیلٹی بلوں کی وصولیوں کی اجازت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ گورنراسٹیٹ بینک اشرف محمودوتھرا کے انقلابی اقدامات کی بدولت مقامی ایکس چینج کمپنیوں کو برانچ لیس بینک کا درجہ حاصل ہوگیا ہے۔
نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے ملک بوستان نے بتایا کہ گورنر اسٹیٹ بینک کی جانب سے مذکورہ اجازت ناموں کے اجرا سے مقامی ایکس چینج کمپنیوں پراعتماد کا اظہار ہے اور اس اعتماد پرایکس چینج کمپنیاں پوری اتریں گی۔
انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں قائم ایکس چینج کمپنیوں کے پاس اے ٹی ایم کے لیے 1500 لوکیشنز دستیاب ہیں جہاں متعلقہ تجارتی بینکوں کے ساتھ معاہدوں کی صورت میںاے ٹی ایم کی تنصیب سے نہ صرف عام آدمی بلکہ خصوصی طور پر سمندرپارمقیم ان پاکستانی کے خاندانوں کے افراد کوسہولت حاصل ہوگی جو ہرماہ اخراجات کے لیے ترسیلات زرکی وصولیوں کی غرض سے ایکس چینج کمپنیوں کے دفاتر آتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گورنراسٹیٹ بینک نے فاریکس ایسوسی ایشن کے 14 مطالبات میں سے7 مطالبات تسلیم کرتے ہوئے ان پر عمل درآمد شروع کرادیا ہے اور گورنراسٹیٹ بینک کے ان اقدامات کی بدولت نہ صرف ایکس چینج کمپنیوں کی کاروباری سرگرمیوں کو وسعت حاصل ہوگی بلکہ فوری طور پرسیکڑوں نوجوانوں کے لیے روزگار کے دروازے کھل گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ایکس چینج کمپنیوں نے مرکزی بینک کی جانب سے بدھ کو ملنے والے اجازت نامے کے بعد تمام یوٹیلٹی بلوں کی وصولیوں کے کاﺅنٹرز کے قیام اور تجارتی بینکوں کے ساتھ اے ٹی ایم کی تنصیب کے معاہدوں کی فوری حکمت عملی وضع کرلی ہے۔



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…