بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

گزشتہ سال سے زیادہ انکم ٹیکس ادا کرنے والوں کو رعایتیں دینے پر غور

datetime 24  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2015-16کے وفاقی بجٹ میں پچھلے سال کے مقابلے میں پندرہ فیصد زیادہ انکم ٹیکس جمع کروانے والے ٹیکس دہندگان کو آڈٹ سے م±ستثنٰی قرار دینے اور پچھلے سال میں ظاہر کردہ آمدنی سے زائد آمدنی پر ٹیکس کی شرح پندرہ فیصد مقرر کرنے کی تجاویز کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔
اس ضمن میں ”ایکسپریس“ کو دستیاب دستاویز کے مطابق اقتصادی مشاورتی کونسل(ای اے سی) وزارت خزانہ کو بھجوائی جانے والی سفارشات میں تجویز دی گئی ہے کہ لوگوں کو ان کی آمدنی ڈکلیئر کرنے کے لیے سہولتیں فراہم کی جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اپنی پوری آمدنی ظاہر کریں۔ اقتصادی مشاورتی کونسل کی جانب سے تجویز دی گئی ہے کہ ایسے ٹیکس دہندگان جو نئے ٹیکس ایئر میں پچھلے ٹیکس ایئر کے مقابلے میں زیادہ آمدنی ظاہر کریں گے انہیں رعایت دی جائے اور پچھلے سال کے مقابلے میں جو بھی اضافی آمدنی ظاہر کی جائے، اس پر پندرہ فیصد ٹیکس عائد کیا جائے۔
اس سے ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں میں کمی واقع نہیں ہوگی بلکہ اضافہ ہوگا تاہم اس پندرہ فیصد رعایتی ٹیکس کا اطلاق صرف اس اضافی آمدنی پر ہونا چاہیے جو پچھلے سال میں ظاہر کردہ آمدنی سے اوپر ہوگی۔
اس کے علاوہ یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ ایسے ٹیکس دہندگان جو پچھلے سال کے مقابلے میں نئے ٹیکس ایئر میں پندرہ فیصد زیادہ انکم ٹیکس جمع کروائیں گے انہیں آڈٹ سے م±ستثنٰی قراردیا جائے۔ اس تجویز کو بجٹ کا حصہ بنانے سے ایف بی آر کے آڈٹ کے کیسوں میں کمی واقع ہوگی اور ڈائریکٹ ٹیکس کی مد میں اضافی ریونیو بھی حاصل ہوگا۔ علاوہ ازیں آڈٹ کیسوں میں کمی کے باعث ایف بی آر اپنی زیادہ توجہ ان ٹیکس دہندگان پر دے سکے گا جو اپنی مطلوبہ صلاحیت کے مطابق ٹیکس جمع نہیں کروارہے ہیں اور جن کی طرف سے کئی کئی سال سے ایک مخصوص رقم ہی انکم ٹیکس کی مد میں جمع کروائی جارہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اقتصادی مشاورتی کونسل کی جانب سے دی جانیوالی بجٹ تجاویز کا جائزہ لیا جارہا ہے اور ستائیس مئی کو وزیراعظم کی زیر صدارت ہونیوالے اجلاس میں بھی ٹیکس سے متعلقہ بجٹ تجاویز کو حتمی شکل دی جائیگی جس کے بعد فنانس بل کے مسودے کو حتمی شکل دے کر پارلیمنٹ میں پیش کردیا جائیگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…