جمعرات‬‮ ، 12 فروری‬‮ 2026 

ریٹیلرز سے ٹرن اوور کے بجائے فکس شرح سے ٹیکس وصولی پر غور

datetime 22  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2015-16کے وفاقی بجٹ میں پٹرولیم مصنوعات پر پورے سال کے لیے فکس ریٹ سے سیلز ٹیکس عائد کرنے اور پرچون فروش تاجروں پر بھی دکانوں کے حجم کے مطابق فکس شرح سے انکم ٹیکس و سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔
اس ضمن میںنجی ٹی وی کو دستیاب دستاویز کے مطابق یہ تجاویز ٹیکس اصلاحات کمیشن کی جانب سے دی گئی ہیں اور کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی بیشی سے ملک میں ٹیکس وصولیاں متاثر ہوتی ہیں لہٰذا پٹرولیم مصنوعات پر فی لیٹر کے حساب سے فکس ٹیکس عائد کردیا جائے اور یہ ٹیکس ایک سال کی مدت کے لیے عائد کیا جائے۔
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی یا اضافہ ہونے کی صورت میں فی لیٹر پٹرول پر فکس شرح سے ٹیکس وصول کیا جائے۔ اس سے ایف بی آر کا ریونیو بھی متاثر نہیں ہوگا اور قیمتوں کے حوالے سے بھی بے یقینی صورتحال پیدا نہیں ہوسکے گی جو ملکی معیشت کے لیے مثبت ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت ٹیکس اصلاحات کمیشن کی جانب سے دی جانے والی اس بجٹ تجویز کا جائزہ لے رہا ہے۔
اس کے علاوہ پٹرول کی طرح پرچون فروش تاجروں پر بھی ٹرن اوور کی بنیاد پر ٹرن اوور ٹیکس عائد کرنے کے بجائے فکس ریٹ کے حساب سے ٹیکس عائد کرنے کی تجویز زیر غور ہے کیونکہ تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں مگر اس کے حوصلہ افزا نتائج حاصل نہیں ہوسکے ہیں۔ دستاویز کے مطابق تاجروں پر فکس ٹیکس ان کے ٹرن اوور کے بجائے ان کی دکانوں کے حجم کے حساب سے عائد کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ جتنی بڑی د±کان ہوگی، اس پر فکس ٹیکس اتنا ہی زیادہ ہوگا۔
اس کے علاوہ یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ انڈر انوائسنگ کے خاتمے کیلیے آئندہ بجٹ میں کم ازکم درآمدی ویلیو متعین کرکے اس کا اعلان کیا جائے۔ یہ کم ازکم درآمدی ویلیو مختلف اشیا کے لیے ایک خاص پیریڈ کے لیے ہونی چاہیے اس کے بعد اس کا دوبارہ جائزہ لے کر اس کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…