بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

زخمی حجاج کو سرکاری خرچے پرمقامات مقدسہ لے جانے کا اعلان

datetime 12  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد نے گذشتہ شام مسجد حرام میں کرین کے حادثے میں ہونے والے جانی نقصان پر گہری رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے گورنر مکہ شہزادہ خالد الفیصل سے بھی تعزیت کی ہے۔ سعودی حکومت کی جانب سے تمام زخمیوں کے سرکاری سطح پر علاج کے اعلان کے بعد زخمی عازمین حج کو مقدمات مقدسہ پر لے جانے کا بھی سرکاری سطح پر اہتمام کا اعلان کیا ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق گورنرمکہ شہزادہ خالد الفیصل نے ہفتے کو علی الصباح اسپتالوں میں کرین حادثے کے زخمیوں کی عیادت کی اور ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ زخمیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شہزادہ خالد الفیصل نے کہا کہ حکومت تمام زخمیوں کے سرکاری سطح پرعلاج کے ساتھ ساتھ ان کے مناسک حج کی ادائیگی کے لیے مقامات مقدسہ پر لے جانے کا بھی خصوصی اہتمام کرے گی۔ گورنر مکہ نے بتایا کہ کرین حادثے کے نتیجے میں متاثر ہونے والے مسجد حرام کے حصے کو دو روز کے اندر اندر مرمت کرلیا جائے گا۔ اس کے علاوہ حادثے کی تحقیقات کے لیے دو الگ الگ ٹیمیں بھی بنائی گئی ہیں جو جلد ہی اپنی رپورٹس سے حکومت کو آگاہ کریں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…