اسلام آباد (نیوزڈیسک) نندی پور پاور پروجیکٹ پر موجودہ شوروغل سے قطع نظر سپریم کورٹ کے تشکیل کردہ کمیشن نے اس قومی منصوبے کے حوالے سے قومی خزانے کو 113 ارب روپے کے نقصان کی نشاندہی کی تھی اور اتنے بڑے قومی خسارے کے ذمہ داروں کا تعین کیا تھا مگر اس رپورٹ پر سرکاری دفاتر میں دُھول مٹی جم چکی ہے اور اس کو عملدرآمد کیلئے واپس نکالنے کا امکان نظر نہیں آتا، جسٹس (ر) رحمت حسین جعفری پر مشتمل کمیشن نے اپنی رپورٹ ن لیگ حکومت آنے سے قبل تیار کی تھی اور نندی پور پاور پروجیکٹ اور چیچوں کی ملیاںپروجیکٹ کی ضروری منظوری دینے میں غیرمعمولی تاخیر کرکے پی پی حکومت کی وزارت قانون کی غفلت کو قومی خزانے کو113 ارب روپے کا نقصان پہنچانے کا ذمہ دار قرار دیا تھا، اُس عدالتی کمیشن کو اس وقت کے ایک اپوزیشن رہنما اور موجودہ وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف کی پٹیشن پر اُس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی بنچ نے تشکیل دیا تھا مگر 94صفحات پر مشتمل اس اہم رپورٹ پر انسداد بدعنوانی کے کسی ادارے نے کوئی کارروائی نہیں کی اور موجودہ حکومت نے بھی اس معاملے میں کوئی پیشرفت یا کارروائی کرنے میں دلچسپی نہیں دکھائی جس کے باعث رپورٹ بے کار پڑی ہے، اب پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے نندی پور پاور پروجیکٹ میں اپنی حکومت کی جانب سے کسی بھی قسم کی بدعنوانی کی تحقیقات کیلئے نیب کو دعوت دی ہے اور خود کو احتساب کیلئے پیش کیا ہے، جسٹس جعفری کمیشن نے قرار دیا تھا کہ وفاقی وزارت قانون کے انتظامی حکام کی غفلت و لاپروائی کے باعث منصوبے کی تشکیل میں تاخیر ہوئی اور اس تاخیر کے سبب قومی خزانہ 113 ارب روپے سے محروم ہوگیا۔روزنامہ جنگ کے صحافی طارق بٹ کی رپورٹ کے مطابق وزارت قانون دستاویزات کی تکمیل میں تاخیر کا ذمہ دار تھا، رپورٹ کے مطابق وزارت قانون نے کنٹریکٹر کو دی گئی وزارت خزانہ کی ساورن گارنٹی کو کلیئر نہیں کیا جس کے باعث کام بند ہوگیا، درحقیقت نندی پور پاور پروجیکٹ اپریل 2011ء میں مکمل ہونے کی پیشگوئی کی گئی تھی۔ جب منصوبہ تاخیر کا شکار ہوا تو اس وقت بابر اعوان وزیر قانون اور جسٹس (ر) ریاض کیانی (الیکشن کمیشن پاکستان کے موجودہ ممبر) سیکرٹری قانون تھے، سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ وزارت قانون نے برسوں تک ساورن گارنٹی پر کوئی توجہ نہیں دی جس نے چینی فرم کو ٹھیکہ منسوخ کرنے پر مجبور کر دیا، اقتدار میں آنے کے فوراً بعد نواز شریف حکومت نے پروجیکٹ پرکام شروع کرنے کیلئے اقدامات شروع کر دیئے، تکمیل پر نندی پور پاور پروجیکٹ (اصل لاگت 329 ملین ڈالر) اور چیچوں کی ملیاں کمبائنڈ سائیکل پاور پلانٹ (حقیقی اخراجات 354.5 ملین ڈالر) سے قومی گرڈ میں بالترتیب 425 میگاواٹ اور 525 میگاواٹ بجلی شامل ہو جائے گی۔ اس دور میں اعلیٰ عدلیہ نے ساورن گارنٹی کے عدم اجراء سے متعلق سیکرٹری خزانہ سے استفسار کیا تھا تو عدالت کو بتایا گیا تھا کہ پورٹ پر پڑی مشینری کی کلیئرنس کیلئے ساورن گارنٹی جاری کرنے کے حوالے سے وزارت قانون اور وزارت خزانہ کو خطوط لکھے گئے مگر کوئی نتیجہ نہیں نکلا، ایک بار وزیراعلیٰ شہباز شریف کے ساتھ ترک وفد کی ملاقات کے دوران ایک مندوب نے نندی پور پاور پروجیکٹ اور چیچوں کی ملیاں پاور پروجیکٹ میں غیرمعمولی تاخیر کی جانب وزیراعلیٰ کی توجہ مبذول کرائی تھی اور شہباز شریف نے اپنے چیف سیکرٹری کو پی پی کی مرکزی حکومت کے سامنے یہ مسئلہ اُٹھانے کی ہدایت کی تھی مگر کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی تھی
ایک کھرب تیرہ ارب کی کرپشن،ن لیگ کے ساتھ پیپلزپارٹی بھی زد میں آگئی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)
-
طلبہ کےلئے خوشخبری،ہفتہ وار دو چھٹیوں کا اعلان
-
iPhone 18 Pro Max کی پاکستان میں قیمت اور PTA ٹیکس سامنے آگیا
-
حکومت کی ایک سال کے لیے پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کی تجویز
-
کراچی؛ فلیٹ سے ڈاکٹر، اسکی بیوی اور 3 بچوں کی لاشیں برآمد، ابتدائی تفتیش میں اہم انکشاف
-
حکومت کاپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کا اعلان
-
گھی اور کوکنگ آئل کی کم از کم ریٹیل قیمتیں مقرر کردی گئیں
-
حکومت کا بڑا فیصلہ، 50 فیصد ملازمین گھر سے کام کریں گے
-
مردہ بچیوں کو قبر سے نکال کر زیادتی کرنیوالا ملزم گرفتار، خوفناک انکشافات
-
شہریوں کیلئے بڑی سہولت، پاسپورٹ بنوانا مزید آسان
-
خلیجی ملک کی شہریت منسوخ، سیکڑوں لوگ اب کس ملک کی شہریت لے رہےہیں؟
-
2027 میں کیا ہوگا؟ خطرناک پیشگوئی سامنے آ گئی
-
گھر بنانے کے خواہشمندوں کے لیے قرضوں کے متعلق اہم اعلان
-
زلزلے کے جھٹکے،شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا



















































