پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

جسٹس فائز عیسی نے رضاکارانہ طور پر اپنے، اہلیہ اور بچوں کے اثاثے ظاہر کردیے

datetime 4  مارچ‬‮  2023 |

اسلام آباد(این این آئی)سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رضاکارانہ طور پر اپنے، اہلیہ اور بچوں کے اثاثے ظاہر کردئیے۔نجی ٹی وی کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور اہل خانہ کے اثاثے سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری کیے گئے۔ دستاویزات کے مطابق کینال روڈ لاہور میں پراناگھر کرائے پر دے رکھا ہے،

ان کے بینک اکاؤنٹ میں 4کروڑ 13لاکھ 30ہزار 856روپے ہیں، ایک فارن کرنسی بینک اکاؤنٹ میں 41لاکھ روپے سے زائد رقم موجود ہے۔دستاویزات میں بتایا گیا کہ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی ملکیت میں دوکاریں، ایک گاڑی ہے۔دستاویزات میں موقف اپنایا گیا کہ مجھے سرکاری طور پر 2کاریں، 600لیٹر پیٹرول ملتا ہے، وزارت داخلہ کے اجازت نامے کے باوجود ممنوعہ اسلحہ رکھنے سے انکار کیا، بطور جج سپریم کورٹ 300ملکی مفت کال منٹس ملتے ہیں، 300لیٹر پیٹرول مفت ملے گا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دستاویزات میں کہا کہ میری اہلیہ سرینہ عیسیٰ میرے زیرکفالت نہیں، وہ برطانیہ اور پاکستان میں اپنے الگ ٹیکس گوشوارے جمع کراتی ہیں۔دستاویزات کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بطور چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ کوئی پلاٹ نہیں لیا، انہوں نے بطور جج سپریم کورٹ کوئی سرکاری پلاٹ نہیں لیا، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کوسرکاری پلاٹس کی آفرزہوئیں جو انہوں نے ٹھکرا دیں۔دستاویزات میں کہا گیاکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سال 2018میں آمدن ایک کروڑ 51لاکھ13ہزار 972روپے تھی، انہوں نے سال 2018میں 22لاکھ 916روپے ٹیکس ادا کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…