جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

جاپان کا گوریلا جس پر لڑکیاں مرتی ہیں!

datetime 2  اپریل‬‮  2016 |

جاپان کے ہیگاشی یاما زو میں ایک ایسا گوریلا ہے جس پر لڑکیاں فدا ہیں اور یہ گوریلا بھی لڑکیوں کو دلچسپ نظر سے گھورتا رہتا ہے اس گوریلا کا نام شبانی ہے اس کی شہرت اب اس قدر پھیل گئی ہے کہ اس کے انکلوژر کے اطراف لڑکیوں اور خواتین کی بھیڑ نظر آنے لگی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ شبانی کی حساس رنگوں اور پُر شکوہ خوبصورتی‘ ڈیل ڈول نے زو جانے والی خواتین کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے اس سال مارچ میں اخبارات اور ٹیلی ویژن چیانلوں نے اس گوریلا میں خواتین کی دلچسپی کے بارے میں جب رپورٹیں شائع کیں تو زو میں اس گوریلا کو دیکھنے آنے والی خواتین اور لڑکیوں کی بھیڑ لگ گئی۔ سوشیل میڈیا پر اس گوریلا کی تصاویر گشت کرنے لگی ہیں جاپان میں حسین شخص کو ’’ایکے میان‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ اصطلاح اب اس گوریلا کیلئے استعمال کی جانے لگی ہے۔ سوشیل میڈیا پر اس کی تصویر کے ساتھ کئی خوبصورت تبصرے لوگ کرے لگے ہیں۔ شبانی کی ایک اہلیہ بھی ہے اور اس کے دو بچے ہیں۔ زو کے منتظمین نے ایک اور حیرت انگیز انکشاف یہ کیا کہ شبانی کی مادہ اس سے 24 سال بڑی ہے اور اس عمر میں بچے پیدا کرنا حیرت انگیز بات ہے۔ مقامی میڈیا کاکہنا ہے کہ شبانی کو لڑکیوں میں جو مقبولیت حاصل ہے وہ یا تو ہالی ووڈ اداکار جان کلونی کو حاصل ہے یا جاپان کے ہیرو کین وٹایا نے اس شہرت کے مالک ہیں۔
جودھ پور میں بلٹ بابا کا مندر
یوں تو انسان نے دنیا کی ہر شئے کو خدا بنا رکھا ہے لیکن بعض مقامات پر لوگ جن چیزوں کی پوجا کرتے ہیں یا اپنے اعتقاد میں اندھنے بن جاتے ہیں ان کو دیکھ کر عقل چکراجاتی ہے۔ جودھ پور میں ایک مقام ہے کمبل گڑھ جہاں لوگوں نے ایک موٹر سیکل کو اپنا داتا بنا رکھا ہے۔ بلٹ بابا کی مندر پر سینکڑوں لوگ آتے جاتے ہیں۔ اس موٹر سیکل کے بارے میں ایک کہانی مشہور ہے کہا جاتا ہے کہ 1991 میں موسم گرما کی ایک رات میں اوم بانا نامی ایک شخص اپنی بلٹ 350 گاڑی پر پالی سے اپنے موضع چھوٹیلہ واپس آرہا تھاکہ موٹر سیکل پھسل کر درخت سے ٹکرا گئی اور اوم بانا کی موت ہوگئی۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ حادثے کے بعد موٹر سیکل پولیس اسٹیشن لائی گئی لیکن دوسرے دن حیرت انگیز طور پر موٹر سیکل پھرسے جائے حادثے پر موجود تھی۔ پولیس نے اس کو شرارت سمجھا اور موٹرسیکل دوبارہ پولیس اسٹیشن لا کر اس کا پٹرول نکال لیا۔ تاہم دوسرے دن موٹر سیکل پھر جائے حادثے پر موجود تھی۔ جیسے ہی یہ کہانی پھیل گئی لوگ جمع ہونا شروع ہوگئے اور انہوں نے موٹر سیکل کی پوجا شروع کردی۔ مقامی افراد کاکہنا ہے کہ بلٹ بابا کے مندر پر ان کی کئی مرادیں پوری ہوتی ہیں۔ لوگ اس موٹرسیکل کو دھاگے باندھتے ہیں۔ مٹھائی‘ ناریل اور نہ جانے کیسی کیسی اشیاء پیش کرتے ہیں جس درخت سے یہ موٹر سیکل ٹکرائی تھی وہ بھی آج تک موجود ہے اور لوگ اس درخت کو چوڑیاں‘ ساڑیاں باندھتے ہیں۔ اس مندر کا ایک پجاری بھی ہے پونم گیری جواس مندر کی دیکھ بھال کرتا ہے عام طور پر لوگ کہیں سفر پر جانے سے پہلے محفوظ سفر کیلئے یہاں منت مانتے آتے ہیں۔ اس مقام پر اب باقاعدہ ایک مندر بن گیا ہے اور موٹرسیکل کو بھی شیشوں کے باکس میں رکھا جاتا ہے۔ کئی لاریوں کے ڈرائیور نذرانے کے طور پر شراب کی ایک چھوٹی بوتل بھی وہاں رکھ دیتے ہیں۔ اس طرح جودھپور کے قریب واقع پالی ضلع کایہ بلٹ بابا کامندر کافی مشہور ہوگیا ہے۔
اٹلی میں بھوتوں کا شہر
یوروپی ممالک کا شمار ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے۔زمانہ قدیم سے ہی یہ ممالک علم و دانشمندی میں دنیا کے دوسرے ممالک سے آگے رہے ہیں لیکن یہاں کے لوگ توہم پرستی اور اندھے عقائد میں بھی دنیا سے آگے ہیں۔ اکثر توہم پرستی یا اندھے عقائد کے بارے میں مشہور ہے کہ ایشیاء اور اٹلی کا ایک گاوں ہے کولوبیری ‘ اس ملک کے لوگ اس شہر کا نام لیتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق اس گاوں کے بارے میں کئی کہانیاں مشہور ہیں ۔ جس کی وجہ سے اٹلی کے باشندوں میں اس قدر خوف بیٹھ گیا ہے کہ وہ اس کا نام لینا بھی منحوس سمجھتے ہیں ۔ مشہور ہے کہ 20 ویں صدی میں ایک جادو گرنی اور ایک وکیل اس گاوں کی نحوست کی وجہ بنے تھے۔ ایک دولت مند وکیل یہاں رہتا تھا جس نے اپنی زندگی کا کوئی مقدمہ نہیں ہارا تھا ۔ اس کی وجہ سے اس کے کئی دشمن بھی ہوگئے تھے ایک دن ایک وکیل نے دوران گفتگو کہا کہ اگر میں جھوٹ بول رہا ہوں تو یہ فانوس گرجائے ۔ اس کے الفاظ ادا کرتے ہی فانوس چھت سے ٹوٹ کر گر گیا اگرچہ اس میں کوئی زخمی نہیں ہوا لیکن اس دن کے بعد سے لوگ اس وکیل سے ڈرنے لگے ۔ کہا جاتا ہے کہ گاوں میں ایک خاتون تھی جس کو لوگ جادوگرنی سمجھتے تھے ۔ اس جادوگرنی کی پوتی ایلینا آج بھی زندہ ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ اس کی دادی کوئی جادوگرنی نہیں تھی ۔ لوگوں نے اس گاوں کے واقعات کو ان سے جوڑ دیا ہے ۔ اگرچہ ایسے ہی کچھ واقعات کی وجہ سے یہ گاوں منحوس سمجھا جاتا ہے لیکن یہاں آنے والے سیاح لاکھوں کی تعداد میں ہوتے ہیں۔ یہاں بھوتوں کا ایک فیسٹیول بھی ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…