ہفتہ‬‮ ، 10 اکتوبر‬‮ 2026 

فوج ،عدلیہ کو سوچنا چاہیے ہم معاشی طور پر اس وقت کہاں کھڑے ہیں ،عمران خان

datetime 12  دسمبر‬‮  2022 |

لاہور( این این آئی) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ فوج اور عدلیہ کو سوچنا چاہیے ہم معاشی طور پر اس وقت کہاں کھڑے ہیں ،اللہ تعالیٰ نے عدلیہ کو جس مقام پر بٹھایا ہوا ہے اگر ملک مزید نیچے گیا تو جوابدہ تو وہ بھی ہیں ،سوویت یونین کے پاس دنیا کی سب سے طاقتور فوج تھی لیکن جب وہ معاشی طور پر کمزور ہوا،

تو فوج بھی اسے ٹوٹنے سے نہ بچا سکی، تحریک انصاف نے جو قرضے لئے تھے وہ تو قرضوں کی اقساط ادا کرنے کیلئے لئے تھے ،ملک کی معاشی طور پر اتنی خوفناک تصویر پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے ویڈیو لنک کے ذریعے اپنی معاشی ٹیم اور ماہرین سے معیشت کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کیا ۔ا س موقع شوکت ترین ، حماد اظہر ، ہمایوں اختر خان، عمر ایوب خان، سلمان شاہ سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ عمران خان نے کہا کہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم خطرے کے جس کنارے پر کھڑے ہوئے ہیں عوام کو اس سے آگاہ نہیں کر رہے ، ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ کی حیثیت سے یہ ذمہ داری سمجھتا ہوں کہ قوم کو بتائوں حالات کیا ہیںاور خدانخواستہ یہ کہیں اور جا سکتے ہیں اور زیادہ برے ہو سکتے ہیں،میں نے آج اپنی معاشی ٹیم کو بٹھایا ہوا ہے ، میں قوم سے نہیں اداروں سے بھی مخاطب ہوں کہ ملک جس تیزی سے نیچے جارہا ہے اس کے ساری قوم اور اداروں پر اثرات ہوں گے، نیشنل سکیورٹی کے ادارے ہیں ، ہم نے نیشنل سکیورٹی پالیسی بنائی تھی جس ایک پہلو پاکستان کی ملٹری ہے اور دوسرا پہلو پاکستان کی معیشت ہے ، سوویت یونین کی فوج دنیا کی طاقتور فوج تھی لیکن وہ معاشی طور پر نیچے گیا تو فوج سوویت یونین کو ٹوٹنے سے نہ بچا سکی، نیشنل سکیورٹی میںفوج کابہت بڑا حصہ ہے انہیں سوچنا چاہیے ہم آج کہاں کھڑے ہیں ،عدلیہ کا ملک میں بڑا کردار ہے،

ان کو بھی اس میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ، عدلیہ کو اللہ نے جس مقام پر بٹھایا ہوا ہے جوابدہ تو وہ بھی ہیں اگر ملک اور تیزی سے نیچے چلا گیا، کاروباری برادری ہے ، حیرت ہے وہ کیوں ابھی تک آواز بلند نہیں کر رہی ہے ، سب سے زیادہ متاثرہ صنعتکار ہو رہا ہے ، سمال اینڈ میڈیم انڈسٹری کرش ہوتی جارہی ہے ،ہماری برآمدات گرتی جارہی ہیں،جو باہر بیٹھا ہوا پاکستانی ہے وہ کیوں ترسیلات زر نہیں بھجوا رہا ۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے دور میں برآمدات اور ترسیلات ریکارڈ سطح پر تھیں ، محصولات جمع کرنے کا ہدف ریکارڈ سطح پر تھا،کسان ہمارے دور میں سب سے زیادہ خوشحال تھا، چار بڑی فصلوں بمپر کراپ ہوئی تھیں، میںکسانوںسے بھی بات کر رہا ہوں آپ نے بھی اپنی آواز بلند کرنی ہے ، ہمارے آخری ماہ میں انڈسٹریل گروتھ27فیصد ہوئی تھی جو آج صفر پر آ گئی ہے، آج سب کو کہہ رہا ہوں آج اگر آپ اپنی آواز بلند نہیں کریں گے آپ سب اس کے ذمہ دار ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر اللہ نے ہمیں حکومت دی تو ہمیں کیا کرنا پڑے گا ہم کیسے ملک کو دلدل سے نکالیں گے،ڈالر کا گیپ بڑھتا جارہا ہے ، جو قرضے لئے ہوئے ہیں وہ کیسے ادا ہوں گے ، تحریک انصاف نے جو قرضے لئے تھے وہ تو قرضوں کی اقساط ادا کرنے کیلئے لئے تھے ، جنہوںنے قرضے لئے وہ دو جماعتیں تیس سال تک اقتدار میں بیٹھی رہیں قرضے ان کے ادوار میں چڑھے ، ایک طرف قرضوں کی اقساط دینی ہے ، آئی پی پیز سے جو معاہدے کئے ہیں

ان کی ادائیگیاں ڈالر میں کرنی ہیں، ڈالر کی قیمت بڑھتی جارہی ہے اور روپے کی قدر گرتی جارہی ہے ،ترسیلات زر گر رہی ہیں کیونکہ حکومت اورمارکیٹ کا جوریٹ ہے اس میں 10روپے کا فرق آ گیا ہے ایسے میں بینکنگ چینل کی بجائے ہنڈی حوالہ کو استعمال کیا جائے گا،اس وقت ملک میں سرمایہ کاری آ نہیں رہی، باہر کے سرمایہ کاروںکو اعتماد نہیں رہا ،کریڈٹ کی ریٹنگ وہ سو فیصد پر پہنچ گئی ہے ایسے میں کمرشل بینکوں نے قرض نہیں دینا ، 88فیصد کاروباری برادری کوحکومت پر اعتماد نہیں ہے ،

اس سے خوفناک تصویر میں نے کبھی نہیں دیکھی جو آج سامنے آرہی ہے ، اس کا حل ایک ہے کہ ملک میں صاف اور شفاف انتخابات کرائے جائیں ، معیشت ملک میں سیاسی استحکام پر انحصار کرتی ہے اگر ملک میں سیاسی طور پر استحکام نہیں ہے تو سب سے پہلے معیشت متاثر ہوتی ہے ،سب انتخابات کے لئے آواز بلند کریں ،اس وقت پاکستان کو جن حالات میں دھکیل رہے ہیں وہاںمعیشت اور نیچے جانے لگی ہے ۔ شوکت ترین نے کہا کہ مہنگائی نے پچاس سالہ تاریخ کے ریکارڈ توڑ دئیے ہیں،زر مبادلہ کے ذخائر ایک ماہ کے لئے رہ گئے ہیں ،

آئی ایم ایف سے بہت مشکل پروگرام کر رہے ہیں،آئی ایم ایف بھی ہچکچاہٹ کا شکار ہے ، قوم جن مسائل کا سامنا کررہی ہے ،جو حکومت میں ہیں وہ روڈ میپ دیں موجودہ حالات سے باہر کیسے نکلیں گے ۔ماہر معاشیات سلمان شاہ نے کہا کہ ہمیں سب سے پہلے مقامی اور بیرون ممالک لوگوں کو اعتماد دینا پڑے گا، سرمایہ کاروں اور کیپٹل مارکیٹ کو اعتماد دینا پڑے گا، آئی ایم ایف کے ساتھ جس طریقے سے ڈیل کر رہے ہیں وہ بھی مختلف ہے ۔حکومت کے پاس معاشی ٹیم ہے ہی نہیں، سارے ایڈ منسٹریٹو اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ ڈالر کے آفیشل اور اوپن مارکیٹ میں فرق اتنا زیادہ ہو گیا ہے کہ

بینکنگ سپلائی سسٹم ڈرائی ہو گئی ہے ۔جن منصوبوں سے بجلی پیدا ہو رہی ہے وہ معیشت کو گروتھ میں نہیں لے سکتے کیونکہ یہ بہت مہنگی ہے اس میں کرپشن بھی ہے ، اس کو بالکل ٹھیک کرنا پڑے گا،سرمایہ کاری کے ماحول کو ٹھیک کرنا پڑے گا۔ ہمیں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بتانا پڑے گا یہاں پر مواقع کیا ہیں،پاکستان میں امید اور معیشت کے گروتھ کا بیانیہ ہونا چاہیے ۔ہماری معیشت 180نمبر پر ہے ، معیشت حجم کے سائز کے اعتبار سے 40 ویں نمبر پر ہے ۔ پی ٹی آئی کا وژن ہے ہماری معیشت ہماری آبادی کے مطابق ہو اور اسے ٹاپ ٹین میں پانچ یا چھ نمبر پر آنا چاہیے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…