ہفتہ‬‮ ، 10 اکتوبر‬‮ 2026 

میری جان کو خطرہ ہے، مراد سعید نے صدر مملکت کو خط لکھ دیا

datetime 12  دسمبر‬‮  2022 |

اسلام آباد (این این آئی)سینئر صحافی ارشد شریف کے بعد نامعلوم افراد کی جانب سے تحریک انصاف کے مرکزی رہنما مراد سعید کے تعاقب اور انکی جان کو لاحق خطرات پر کارروائی کا معاملہ،مراد سعید نے صدر مملکت کو تفصیلات پر مبنی اہم ترین خط بھجوا دیا،خط میں مشکوک افراد کی جانب سے تعاقب،انکو دی جانے والی دھمکیوں

اور انکی سلامتی کو لاحق خطرات کی تفصیلات درج ہیں۔ مراد سعید نے کہاکہ میرا ایمان ہے کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے، میرا اللہ پر بھروسہ اور کامل ایمان ہے وہی کن فی فیکون زات ہے،میں موت سے ڈرتا نہیں اور حق بات کہتا رہوں گا۔مراد سعید نے صدر مملکت سے معاملے پر نوٹس اور ضروری ایکشن لینے کی استدعا کی۔ مراد سعید نے کہاکہ 12 جولائی کو ارشد شریف نے بھی آپ کو خط لکھا،کسی نے نوٹس لیا نہ ہی ارشد شریف کے خدشات کو سنجیدگی سے لیا گیا۔ سابق وزیر نے کہاکہ نتیجتاً پاکستان ایک وفادار اور محب وطن شہری اور قابل ترین تحقیقاتی صحافی سے محروم ہوا،مرکز میں تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے میرے خلاف جھوٹے مقدمات کے اندراج کا سلسلہ جاری ہے۔مراد سعید نے کہاکہ جولائی میں ملاکنڈ میں بدامنی نے سر اٹھانا شروع کیا،تو میں نے بروقت اسکے اسباب و وجوہ کی نشاندہی کی۔مراد سعید نے کہاکہ میں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامیوں پر تنقید کی اور سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہاکہ اسکے بعد میرے خاندان کو ڈرانے دھمکانے کے سلسلے کا آغاز ہوا،مجھے فیملی کو کء اور منتقل کرنے کا کہا گیا لیکن اللہ پر ایمان اور اپنی مٹی سے محبت کی وجہ سے آج تک ایسا نہیں کیا اور واضح پیغام دیا کہ ہمارا جینا مرنا اس مٹی میں ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگست سے اب تک مجھے جان سے مارنے کی کئی دفعہ منصوبہ بندی کی گئی،

مجھے اس سے نہ صرف مقامی پولیس نے آگاہ کیا بلکہ دیر، باجوڑ کے دورے کینسل کرنے کا بھی کہا گیا۔ مراد سعید نے کہاکہ مالاکنڈ میں جب لوگوں کو امن کے لئے آگہی مہم چلا رہا تھا تب بھی حلیے بدل کر مشکوک افراد میرے تعاقب میں رہے لیکن اللہ نے حفاظت کی۔مراد سعید نے کہاکہ 18اگست کی رات کو 2 بجے سادہ کپڑوں میں ملبوس مسلحہ افراد میری عدم موجودگی میں میرے گھر آئے،

مجھے آج تک علم نہیں ہو سکا کہ انکا تعلق قانون نافذ کرنے والے کس ادارے سے تھا یا یہ کوئی جرائم پیشہ لوگ تھے۔مراد سعید نے کہاکہ میں نے مدد کے لئے دوستوں کو بلوایا جن کے آنے پر وہ مسلح افراد فرار ہو گئے،یہ مسلح افراد ریڈ زون کی جانب فرار ہوئے جہاں پولیس چیک پوسٹ ہے،انہیں گزرنے کی اجازت دی گئی۔ مراد سعید نے کہاکہ میں نے مقدمے کے اندراج کی درخواست دی مگر کوئی مقدمہ درج نہ کیا گیا،

پولیس نے ڈائری نمبر کے اجراء ہی سے انکار نہیں کیا بلکہ درخواست واپس کرنے سے بھی انکار کر دیا۔مراد سعید نے کہاکہ انکا جواب سادہ سا تھا کہ اوپر سے احکامات ہیں اور کچھ نہیں کر سکتے،میں نے ریڈزون کے کیمروں کی ریکارڈنگ تک رسائی کی بھی درخواست کی جو منظور نہ کی گئی۔ سابق وزیر نے کہاکہ مجھے حکام کی جانب سے بار بار بتایا گیا کہ میری جان کو خطرہ ہے،پوری ریاستی مشینری ان عناصر کی معاونت کرتی دکھائی دے رہی ہے جو میری جان کے درپے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جنابِ صدر آپ سربراہِ ریاست اور افواج کے سپریم کمانڈر ہیں،

امید کرتا ہوں کہ ریاستی اداروں اور محکموں کی جانب سے ارشد شریف کے خط کے حوالے سے برتی گئی غفلت کو نہیں دہرایا جائے گا۔مراد سعید نے کہاکہ جس ملک میں سابق وزیراعظم اور مقبول ترین لیڈر پر قاتلانہ حملے کی ایف آئی آر تک درج نہ ہوسکےْ وہاں انصاف کی امید مشکل لیکن درپیش خطرات پر ریکارڈ پر لانا ضروری ہے۔ سابق وزیر نے کہاکہ مجھے اتنا بتایا جائے کہ یہ کون لوگ ہے؟ اگر یہ جرائم پیشہ لوگ ہے؟ اگر ایسا ہے تو ریاستی مشینری کی پشت پناہی انہیں کیوں اور کیسے حاصل ہے؟،انشا اللہ اسی عزم سے اپنے علاقوں کے امن کے قیام ملکی خودمختاری اور عوام کی ترجمانی کا سلسلہ جاری رکھوں گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…