ہفتہ‬‮ ، 10 اکتوبر‬‮ 2026 

پرویز الہیٰ اسمبلیاں چلنے کے حامی ہیں مگر یہ دسمبر میں ہی تحلیل ہوں گی، عمران خان

datetime 11  دسمبر‬‮  2022 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک /آن لائن) سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ دسمبرمیں اسمبلیاں تحلیل کردیں گے، جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کہتے تھے اگلی باری ن لیگ کی آرہی ہے۔ نجی ٹی وی  ایکسپریس کے مطابق پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ پرویز الہی کا خیال ہے اسمبلیاں کچھ دیر اور چلنی چاہیے مگر وزیراعلیٰ پنجاب نے اسمبلی تحلیل کے فیصلے کا حتمی اختیار مجھے دے دیا ہے

اور ہم نے دسمبر میں ہی انہیں تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جب تک کیسز ختم نہیں ہوں گے نواز شریف واپس نہیں آئیں گے، اگر نواز شریف پنجاب میں آئے تو انہیں گرفتار کیا جائیگا۔اپنے ایک انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہرانا ثنااللہ کی باتوں کوکبھی سنجیدہ نہیں لیا، دسمبرمیں اسمبلیاں تحلیل کردیں گے، معیشت اوپر اٹھانی ہے تو سیاسی استحکام ہونا چاہیے جس کے لیے انتخابات ضروری ہیں، یہ دس ماہ بعد الیکشن کرائیں یا ایک سال بعد کرائیں، یہ ہار جائیں گے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ پرویزالہٰی کا خیال ہے کہ حکومت تھوڑی اور چلنی چاہیے، پرویز الہٰی نے کہا ہے حکومت ختم کرنے کے حوالے سے جیسا میں کہوں گا ویسا وہ کریں گے، پرویز الہٰی نے دوبارہ وزیراعلیٰ بنانیکا کوئی مطالبہ نہیں رکھا۔چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ہمارے ساتھ جویہ 7 ماہ میں ہوا اس میں جنرل (ر) باجوہ کی پالیسیاں رہیں، جنرل (ر) باجوہ نے کہا تھا کہ عثمان بزدارکو ہٹائیں، وہ علیم خان کو وزیراعلیٰ پنجاب بنانے کا کہتے تھے، ان کا بزدار کو ہٹانیکا مطالبہ عجیب تھا، علیم خان کا نام لیا گیا توپرویز الہٰی نے کہا کہ وہ اسے سپورٹ نہیں کریں گے، میں نے کہاعلیم خان پر بڑے الزامات ہیں اسے وزیراعلیٰ نہیں بناسکتا۔ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ حکومت تبدیل کرنے میں ملوث تھے وہ سب میر جعفر اور میرصادق ہیں، ہماری جب حکومت گئی توسب نے سوچا اب لوگ مٹھائیاں بانٹیں گے، انہوں نے سوچا کہ حکومت ختم ہونے کے بعد میری سیاست ختم ہوگئی، جنرل (ر) باجوہ کہتے تھے پی ٹی آئی سے کوئی ٹکٹ نہیں لے گا اور اگلی باری ن لیگ کی آرہی ہے۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان کی سب سے بڑی کوشش ہیکہ مجھے نااہل کرایا جائے،نواز شریف کی کوشش ہیکہ ان پرکیسز ختم ہوجائیں اور مجھے نااہل کیا جائے، ان کو این آر او ون مشرف نے دیا اور این آر او ٹو جنرل باجوہ نے دیا، جب تک کیسز ختم نہیں ہوں گے نواز شریف واپس نہیں آئیں گے،

اگر نواز شریف پنجاب میں آئے تو انہیں گرفتار کیا جائیگا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ جو لوگ لوٹے ہوئے،جنہوں نے غداری کی عوام نے ان کو الیکشن میں سزا دی،جنرل (ر) باجوہ شہبازشریف کو جینیئس سمجھتے تھے، نیب جنرل (ر) باجوہ کے نیچے تھی

اور ان کے کنٹرول میں تھی اس لیے وہ فیصلہ کرتے تھے کس کو اندر جانا ہے کس کو باہر، نیب کے ذریعے کسی کو اندر کرنا یا باہر نکالنا ہمارے ہاتھ میں نہیں تھا، ہمارے پاس اختیار نہیں تھا جن کو اختیار تھا انہوں نے ان کو ریلیف دیا، ہمیں کہا جاتا تھا آپ معیشت دیکھیں احتساب کو چھوڑ دیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…