اتوار‬‮ ، 06 ستمبر‬‮ 2026 

اعظم نذیر تارڑ سے استعفیٰ سابق آرمی چیف قمرجاوید باجوہ کے کہنے پر لیا گیا، عمر چیمہ کا دعویٰ

datetime 3  دسمبر‬‮  2022 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر صحافی عمر چیمہ کا یوٹیوب چینل ٹاک شاک پر اپنے تازہ وی لاگ میں کہنا ہے کہ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اکتوبر کے آخر میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا اور ان کے استعفے کو سپریم جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں چیف جسٹس کے نامزد کردہ ججز کے حق میں ووٹ دینے کے ساتھ جوڑا جا رہا تھا مگر اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ

اعظم نذیر تارڑ کے مستعفی ہونے کی وجہ لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں فوج کی اعلیٰ قیادت کے خلاف ہونے والی نعرے بازی بنی۔ اس نعرے بازی کے دوران اعظم نذیر تارڑ سٹیج پر موجود تھے اور تاثر یہی پایا جاتا ہے کہ انہوں نے کسی کو نعرے لگانے سے منع نہیں کیا۔ اس نعرے بازی کے بعد آرمی لیڈرشپ شدید غصے میں آ گئی اور اس وقت کے آرمی چیف جنرل باجوہ کی جانب سے حکومت کو لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک (ن) لیگی رہنما کے ذریعے پیغام بھیجا گیا۔ حکومت نے من و عن یہ تو نہیں بتایا کہ اس پیغام میں حکومت سے کیا کہا گیا تھا تاہم وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ سے کہا کہ وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں۔ وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ ایک مہینے میں فوج کی اعلیٰ قیادت تبدیل ہونے جا رہی ہے تو ہم اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ کوئی جھگڑا نہیں کرنا چاہتے۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے جواب دیا کہ مجھے مستعفی ہونے پہ کوئی اعتراض نہیں ہے اور انہوں نے فوراً استعفیٰ پیش کر دیا۔

اب 29 نومبر کو جنرل قمر جاوید باجوہ جب ریٹائر ہوگئے ہیں اور انہوں نے فوج کی کمان جنرل عاصم منیر کے سپرد کر دی ہے تو اسی شام وزیر اعظم شہباز شریف نے (ن) لیگی وزرا کا ایک وفد اعظم نذیر تارڑ کے پاس بھیج دیا۔ وزیراعظم نے اعظم نذیر تارڑ کو یہ پیغام دیا کہ ان کا استعفیٰ ابھی تک منظور نہیں کیا گیا اس لیے وہ استعفیٰ واپس لے کر دوبارہ اپنا عہدہ سنبھال لیں۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا ہے اور پھر سے ملک کے وزیر قانون بن گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…