جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

سوئی سدرن کے گرفتار افسران کو قصوروار نہیں کہا جا سکتا، ایم ڈی

datetime 4  ستمبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک)سوئی سدرن گیس کمپنی کے ایم ڈی خالد رحمن نے کہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی جانب سے تحویل میں لیے گئے سوئی سدرن کے 3 سینئر آفیسر کے بارے میں انکوائریز کی جارہی ہیں اور اس بات پر زور دیا کہ چونکہ ابھی معاملے کی تحقیقات ہورہی ہے اس لیے ابھی اس کی تفصیلات میں جانا مناسب نہیں ہے کیونکہ الزام ثابت ہونے تک ان کو قصور وار نہیں کہا جاسکتا۔ایس ایس جی سی سے جاری اعلامیے کے مطابق انہوں نے یہ بات قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم اور قدرتی وسائل کو دی گئی بریفنگ میں کہی۔ ایم ڈی نے کمیٹی ممبران کو بتایا کہ یہ سینئر آفیسرز انتہائی قابل اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے مالک ہیں اور ان کا کمپنی کے مفاد میں کام کرنے کا طویل ریکارڈ موجود ہے۔ڈی ایم ڈی / سی او او شعیب وارثی گزشتہ 37 سال سے سوئی سدرن سے منسلک ہیں اور مختلف حیثیتوں میں کام کرنے کا اچھا ریکارڈ رکھتے ہیں جبکہ محمد امین راجپوت سی ایف او نے تقریباً 3 سال قبل کمپنی میں بطور چیف انٹرنل آڈیٹر شمولیت اختیار کی اور صرف 3 ماہ پہلے ہی سی ایف او کا چارج سنبھالا ہے۔ایم ڈی نے بتایا کہ جی ایم (پی اینڈسی) کامران ناگی نے بھی تقریباً 3 سال قبل سوئی سدرن کو جوائن کیا، اس سے پہلے وہ شیل میں طویل عرصے سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ خالد رحمن نے کہا کہ چونکہ انہوں نے حال ہی میں سوئی سدرن کے ایم ڈی کا عہدہ سنبھالا ہے اس لیے ابھی وہ کمپنی کے بہت سے معاملات کے متعلق پوری طرح آگاہ نہیں لیکن جہاں تک تحویل میں لیے جانے والے سینئر افسران کا تعلق ہے توان کیخلاف انہیں کبھی کوئی شکایت نہیں ملی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…