جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کا شوگرملیں نہ چلانے کااعلان

datetime 18  ‬‮نومبر‬‮  2022 |

لاہور ( این این آئی) پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے برآمد کی اجازت نہ ملنے تک شوگرملیں نہ چلانے کااعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ شوگر انڈسٹری کا بحران ایکسپورٹ نہ کرنے سے شروع ہوا اور اب شوگر ملوں کے دیوالیہ ہونے کا خدشہ ہے،ضرورت سے زائد اسٹاکس موجود ہیں،10 لاکھ ٹن چینی برآمد کرسکتے ہیں،

جس سے 1 بلین ڈالر کا زرمبادلہ کما سکتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار پاکستان شوگر ملزایسوسی ایشن کے مرکزی چیئرمین عاصم غنی عثمان نے گزشتہ روز لاہور کے مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر چیئرمین پنجاب زون ذکاء اشرف سمیت دیگر گورننگ باڈی ممبران بھی ان کے ہمراہ تھے ۔عاصم غنی عثمان نے کہا کہ ہمارے لیے فوری کرشنگ شروع کرنا ممکن نہیں، اس وقت چینی وافر مقدار میں ہے، ضرورت سے زائد اسٹاکس موجود ہیں۔حکومت ڈیٹا شیئر کرے، اسٹاکس کی ٹیم کے ذریعے وزٹ کروالے، چینی کی برآمد سے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا بلکہ 1 بلین ڈالر کا زرمبادلہ ملے گا۔انہوں نے کہا کہ شوگر انڈسٹری کا بحران ایکسپورٹ نہ کرنے سے شروع ہوا اور اب شوگر ملوں کے دیوالیہ ہونے کا خدشہ ہے۔ہم چینی برآمد کیے بغیر ملز نہیں چلا سکیں گے، یہی صورتحال رہی تو چینی مہنگی ہونے سے نہیں روک سکیں گے۔عاصم غنی عثمان نے کہا کہ حکومت کہتی ہے برآمد کی اجازت دی تو چینی مہنگی ہو جائے گی حالانکہ پوری دنیا میں مہنگائی ہورہی ہے، پاکستان میں چینی کا ایکس ملز ریٹ 85 روپے اور بین الاقوامی ریٹ 170 روپے کلو ہے، ریٹ کنٹرول کرنے کے لئے راشن بندی کرلی جائے۔مرکزی چیئرمین نے کہا کہ ملک میں 7 ملین ٹن چینی کی ضرورت ہے، اور اگر شوگر ملز یہ چینی نہ بنائیں تو 6 ارب ڈالر کی چینی درآمد کرنا پڑے گی۔مرکزی چیئرمین نے اعلان کیا کہ چینی ایکسپورٹ سے 5 روپے فی کلوگرام آمدنی پنجاب اور وفاق کو سیلاب فنڈ میں دیں گے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایف آئی آر اور گرفتاریوں سے نہیں ڈرتے، نقصان پر ملیں نہیں چلائیں گے، ریٹ کنٹرول کرنا ہے تو حکومت راشن کارڈ پر چینی دینا شروع کردے۔چیئرمین شوگرملز ایسوسی ایشن پنجاب زون ذکاء اشرف نے موجودہ صورتحال پر کہا کہ شوگر انڈسٹری دیوالیہ ہونے کی طرف جارہی ہے۔چینی کی قیمت بڑھے گی تو کسان کو فائدہ ہو گا، اضافی چینی فوری برآمد کرنا چاہیے ۔

انہوں نے کہا کہ ہم کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہتے جو ملک کے خلاف ہو، کسان کو 3 سو روپے من ادائیگی تب ہو گی جب چینی قیمت بڑھے گی۔چینی اگر باہر سے منگوائیں تو 170 روپے کلو پڑے گی، اس وقت چینی سرپلس میں ہے۔انہوں نے حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سب کاٹن ٹیکسٹائل کی طرف لگے ہیں ،دیگرانڈسٹری کو تباہ کردیا ہے، ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ آٹا چینی سے مہنگا ہوگیا، مطلب پالیسیاں درست نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اصول یہ ہے کہ آٹا سستا اور چینی مہنگی ہونی چاہیے کیونکہ اس کا استعمال بھی کم ہے۔دوسری جانب کین کمشنر حسین بھنڈر نے گنے کی کرشنگ رکوانے کیلئے نوٹس جاری کردیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پنجاب حکومت نے ابھی تک کرشنگ کی اجازت دینے کا فیصلہ نہیں کیا۔ذرائع کے مطابق کین کمشنر نے وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کے حکم پر نوٹس جاری کیا ہے اور نوٹس کے بعد کرشنگ شروع نہ ہونے سے کاشتکاروں کو فصل کی بروقت کٹائی نہ کرنے کی وجہ سے اچھی قیمت نہ ملنے کا خدشہ ہے۔

موضوعات:



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…