جمعرات‬‮ ، 15 جنوری‬‮ 2026 

کوئی اس ملک کی شریانیں بند نہیں کر سکتا جب تک عدالتیں بیٹھی ہیں جمہوری حقوق کا تحفظ کرینگے‘لاہور ہائیکورٹ

datetime 14  ‬‮نومبر‬‮  2022 |

لاہور (ا ین این آئی) لاہور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کے لانگ مارچ اور مظاہروں کے خلاف درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو معاونت کے لیے نوٹس جاری کر دیا جبکہ ریمارکس دیئے کہ کوئی اس ملک کی شریانیں بند نہیں کر سکتا،جب تک عدالتیں بیٹھی ہیں، جمہوری حقوق کا تحفظ کریں گے۔پیر کے روز ہائیکورٹ کے معزز جسٹس جواد حسن نے کیس کی سماعت کی ۔

دورانِ سماعت درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ مظاہروں کی وجہ سے لوگ مشکل میں ہیں۔ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس کیس میں فریق نہیں بنایا گیا، جب لوگوں کوحقوق نہ ملیں تو مظاہروں کے علاوہ کوئی راستہ نہیں رہتا، ملک کے معاشی حقوق کا تحفظ کرنا ضروری ہے، ملک اس وقت دیوالیہ ہونے والا ہے۔جسٹس جواد حسن نے کہا کہ جب تک عدالتیں بیٹھی ہیں، جمہوری حقوق کا تحفظ کریں گے۔ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ حالات یہ ہیں کہ ایک شخص کو گولیاں لگ رہی ہیں اور مقدمہ درج نہیں ہوتا۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ یہ پنجاب حکومت کی ذمے داری ہے۔ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ ایک مضبوط جے آئی ٹی بنے تو پتہ چلے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ آپ جے آئی ٹی بنا لیں، آپ کی صوبے میں حکومت ہے۔جسٹس جواد حسن نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ مظاہرہ پرامن ہو۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم نے پنجاب حکومت کو امن و امان کنٹرول کرنے کے لیے لکھا تھا، ہم نے کہا کہ موٹر وے کھول دیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس کیس کو عوامی مفاد میں دیکھنا ہے، پنجاب میں ایک موٹر وے اور دوسرا جی ٹی روڈ اہم شاہراہیں ہیں، دونوں شاہراہیں صوبے کی شریانیں ہیں جن میں سے ایک کو مکمل بند کر دیا گیا ہے۔جسٹس جواد حسن نے کہا کہ کوئی اس ملک کی شریانیں بند نہیں کر سکتا۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ صوبے پابند ہیں کہ وفاقی حکومت جو ہدایت دے اس پر عمل کریں۔عدالت نے تحریکِ انصاف کے لانگ مارچ کے خلاف درخواست پر سماعت ملتوی کرتے ہوئے فریقین کو جواب داخل کرنے کی ہدایت کر دی۔عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو معاونت کے لیے نوٹس بھی جاری کر دیا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…